میرے اغواء کی ذمہ داری رانا ثناء اللہ پرعائد ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے مجھے تحفظ فراہم نہیں کیا۔ ناصر شیرازی

04 دسمبر, 2017 15:38

شیعت نیوز:مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے۔ مجھے سکیورٹی ایجنسی نے اغواء کیا تھا وہ کون سی ایجنسی تھی اس بات کا انہیں علم نہیں۔انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ بطور وزیر قانون ریاست کے شہریوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، میرے اغواء کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے مجھے تحفظ فراہم نہیں کیا اور میری بازیابی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔لاہور ہائی کورٹ میں ناصر شیرازی بازیابی کیس کی سماعت  جسٹس قاضی محمد امین احمد نے کی۔ اس موقع پر ایس پی لیگل رانا لطیف اور ایس پی صدر رضوان گوندل بھی عدالت میں موجود تھے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئیں۔ناصر شیرازی نے فاضل جج کو آگاہ کیا کہ انہیں قانون نافذ کرنیوالے ادارے نے اغواء کیا تھا تاہم اب انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ جس پر عدالت نے ناصر شیرازی کے بھائی علی عباس شیرازی کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن نمٹا دی۔عدالت میں پیشی کے بعد ناصر شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ، لاہور ہائیکورٹ بار، ایم ڈبلیو ایم، وکلا برادری، صحافی برادری سمیت ان کی بازیابی کیلئے کردار ادا کرنیوالوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، لیکن پنجاب حکومت نے انہیں تحفظ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کیسا سیف سٹی ہے جہاں شہریوں کو اغواء کر لیا جاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر ہی نہیں ہوتی اور پولیس لاعلم رہتی ہے۔

9:02 صبح مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔