سعودی عرب میں انسداد کرپشن کریک ڈاؤن کے دوران 201 افراد گرفتار

11 نومبر, 2017 17:30

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ حالیہ چند دہائیوں میں منظم منصوبہ بندی کے ذریعے کم از کم 100 ارب ڈالر کی رقم کرپشن کی نذر ہوئی۔

شیعت نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے کہا ہے کہ اس ضمن میں حالیہ گرفتاریوں کے بعد سے 201 افراد سے تحقیقات کیے جارہے ہیں ان 201 افراد میں وزرا، سینئر شہزادے اور بڑے کاروباری افراد شامل ہیں، ان ملزمان کے غلط کاموں کے بڑے واضح ثبوت موجود ہیں جب کہ کرپشن کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن سے مملکت میں کسی قسم کی معاشی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں صرف مخصوص افرادکے بینک کھاتے منجمد کیے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بدعنوانی کے اسکینڈل کی تحقیقات نو تشکیل شدہ سپریم اینٹی کرپشن کمیٹی کررہی ہے جس کی سربراہی ولی عہد محمد بن سلمان کررہے ہیں۔

دوسری جانب سات سو اسکولوں اور 2 ارب ریال مالیت کے چین کو دیئے گئے ٹھیکوں کے باعث وزارت تعلیم بھی انسداد بدعنوانی کے لئے قائم اعلیٰ کمیٹی کی زد میں آگئی۔

وزیر تعلیم ڈاکٹراحمد العیسیٰ اعتراف کرچکے ہیں کہ مملکت بھر میں 700اسکولوں کے منصوبے معطل پڑے ہوئے ہیں اوروزارت نے ٹھیکیداروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے باقاعدہ ایک فائل تیار کر رکھی ہے۔

12:56 شام جون 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔