ایران نے سبھی ایٹمی معاہدے پر عمل پر کیا ہے : ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو
ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نےاعلان کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے دوسال کے عرصے میں ایران نے اپنے سبھی وعدوں پر پوری طرح عمل کیا ہے۔
شیعت نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو نے ایجنسی کی تاسیس کے ساٹھ سال پورے ہونے کی مناسبت سے واشنگٹن میں منقعدہ ایک پروگرام میں کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر مکمل اور گہری نظر رکھی جارہی ہے اور ایران نے بھی ایٹمی معاہدے پر گذشتہ دوسال کے عرصے میں پوری طرح عمل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایران نے سبھی بین الاقوامی قوانین اور اضافی پروٹوکول پر عمل کیا ہے۔
یوکیا آمانو نےکہا کہ ایران نے مزید اطمینان دلانے کے لئے دیگر رضاکارانہ اقدامات انجام دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور ایجنسی کو بھی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق معائنہ کرنے کے لئے مزید جگہوں کا معائنہ کرنے کی اجازت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے تہران میں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی سے ملاقاتوں میں تہران کی جانب سے ایک بارپھر اطمینان دلایا گیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پرعمل کرےگا۔
آئی اے ای اے کے سربراہ آمانو نے کہا ایٹمی معاہدے کی شق ٹی میں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ ایجنسی ایران کی دیگر سائٹوں تک دسترسی حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کی اس شق میں یہ کہا گیا ہے ایجنسی ان ساز و سامان پر نظررکھے گی یا نگرانی کرے گی جو ایٹمی اور غیر ایٹمی دونوں کاموں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایٹمی معاہدے کی شق ٹی کو بہانہ بناکر یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے آئی اے ای اے کو ایران کے فوجی مراکز کا معائنہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
جبکہ اس شق میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایسے ساز و سامان ایران نہیں خریدے گا جو ایٹمی اور غیر ایٹمی دونوں میدانوں میں کام آسکتا ہو اور غیر ایٹمی امور کے لئے ایسے سامان کی خریداری کے لئے ایران کو ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن سے اجازت لینی ہوگی۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو نے شمالی کوریا کے ستمبر مہینے میں ہوئے ایٹمی تجربات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی تازہ ترین ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں دے سکتے لیکن انہوں نےشمالی کوریا کے اعلی حکام سے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کو دوہزار نو سے شمالی کوریا کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔