شامی فوج کی داعش کے آخری ٹھکانے کی طرف پیش قدمی جاری
شامی ذرائع ابلاغ نے اس ملک کی سیکورٹی فورسز اور ان کے اتحادیوں کی دیرالزور کے مضافات میں داعشی دہشتگردوں کے آخری ٹھکانے "البوکمال” کی طرف پیش قدمی جاری رہنے اور دہشتگردوں کے دمشق پر مارٹر حملوں کی خبر دی ہے۔
خبررساں ادارے تسنیم کے نمائندے نے دمشق سے رپورٹ دی ہے کہ عین ترما اور جوبر میں موجود دہشتگردوں نے دوبارہ دمشق کے رہائشی علاقے کو میزائل اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔
دہشتگردوں نے العباسیین، دمشق القدیمہ، محلہ الامین و القصاع اور شہر جرمانا سمیت باب شرقی علاقے کو اپنے حملوں کا مرکز بنایا جس میں بہت سے عام شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔
میدان جنگ کی صورتحال کے مطابق شام اور اس کی اتحادی فورسز کی جانب سے عراق اور شام کی سرحدوں کی طرف آپریشن والفجر-3 کے تحت پیش قدم اور داعشی دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔
میدان جنگ میں سے ایک اطلاع کے مطابق شام اور اس کی اتحادی فورسز نے دیر الزور کے مضافات کو مکمل آزاد کرانے اور البوکمال شہر تک پہچنے کےلیےعراق کی سرحدی لائن کے ساتھ بڑے فوجی آپریشن کا اغاز کردیا ہے۔
واضح رہے کہ البوکمال داعشی دہشتگردوں کا آخری ٹھکانہ شمار کیا جاتا ہے۔
شامی فورسز نے اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں ٹن گندم، آٹا اور چوری کی ہوئی کھاد دیرالزور کے مضافات میں داعشی دہشتگردوں کے ایک ہیڈکوارٹر سے اپنے کنٹرول میں لی ہیں۔
ایک اور خبر یہ کہ داعش کا ایک اہم کمانڈر ابوخطاب الدمشقی جنوب مشرقی دیرالزار کے مضافاتی شہر البصیرہ سے امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز زیر کنٹرول علاقوں کی جانب فرار ہوا ہے۔
دیر الزور کے گورنر محمد ابراھیم سمرہ کے مطابق ہزاروں ٹن گندم داعشی دہشتگردوں کے المیادین شہر میں ایک ہیڈکوارٹر سے ملی ہے۔
یاد رہے کہ المیادین ہی وہ آخری شہر ہے جس کو حالیہ آپریشن کے دوران دہشتگردوں سے پاک کیا گیا ہے۔








