امریکی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان،دفتر خارجہ نے سرد استقبال کیا
شییعت نیوزـ امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان پہنچنے پر سرد استقبال کیا گیا، دفتر خارجہ کے جونیئر افسر ایئرپورٹ لینے گئے، وزیر اعظم عباسی سے ملاقات کے دوران ٹلرسن کا کہناتھاکہ پاکستان آئندہ امریکی پالیسی کےلئے اہم ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کرے، اسلام آباد افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکا کیساتھ کام کرسکتا ہے، دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہیں جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کاکہناتھاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں نتائج دیدئے، پاکستان دنیا میں دہشتگردی کیخلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے، وفود کی سطح پر ملاقات میں وزیر اعظم عباسی، امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کے علاوہ امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل،آرمی چیف جنرل باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیرداخلہ سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، علاوہ ازیں پاکستان میں صرف 4گھنٹے گزارنے کے بعد امریکی وفد بھارت چلا گیا۔
تفصیلات کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کئے جانے سے پیدا ہونے والے تنائو کے باعث امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا پاکستان پہنچنے پر سرد مہری سے استقبال کیاگیا، امریکا کے اعلیٰ ترین سفارتکار کاراولپنڈی کے چکلالہ ایئر بیس پر پاکستانی وزارت خارجہ کے جونیئر افسر کی جانب سے استقبال کیاگیا، اے ایف پی کے فوٹو گرافر نے دیکھا کہ انتہائی اعلیٰ سطح کے دوروں میں استقبال کے لئے جو شان و شوکت ہوتی وہ کہیں دکھائی نہیں دی، بعدازاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات وزیراعظم ہائوس میں ہوئی جس میں پاک امریکا تعلقات، افغانستان میں قیام امن اور خطے میں سلامتی کے امورپرتبادلہ خیال کیاگیا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کے درمیان ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، وزیرخارجہ خواجہ آصف، وزیردفاع خرم دستگیر،وزیرداخلہ احسن اقبال سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے،امریکی وفد میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی تھے۔ ملاقات میں ٹلرسن نے پاکستان کو خطے میں امن واستحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول کےلئے نہایت اہم قرار دے دیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن واستحکام اور گہرے معاشی تعلقات کے مواقع پیدا کرنے کے ہمارے مشترکہ اہداف کےلیےنہایت اہم ہے جبکہ پاکستانی قیادت نے امریکی وزیرخارجہ کو نئی امریکی پالیسی سے متعلق اپنے خدشات سے آگاہ کیا، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نتائج دیدیے ہیں، ہم امریکا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور بہترین تعلقات قائم کرنےکے لئے بھی پرعزم ہیں۔
وزیراعظم عباسی نے کہا کہ امریکا یقین دہانی کرواسکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسٹریٹجک حصہ دار ہیں اور آج پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔ بعد ازاں پاکستان پہنچنے کے 4گھنٹے کے اندر ہی امریکی وفد چکلالہ ایئر بیس سے بھارت چلا گیا۔دریں اثنا امریکی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہاگیا کہ وزیرخارجہ ٹلرسن نے پاکستانی رہنمائوں کو صدرٹرمپ کے اس بیان کااعادہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین سے انتہاپسند اور دہشت گرد گروپوں کاخاتمہ کرناچاہیے، انہوں نے جنوبی ایشیا کیلئے امریکا کی نئی پالیسی کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کیلئے امریکا کے ساتھ کام کرسکتا ہے، افغانستان میں امن کے قیام کیلئے پاکستان اور امریکا کے مفادات یکساں ہیں، جنوبی ایشیاء میں داعش کو شکست دینے اور اُن گروپوں کیخلاف کارروائی میں تعاون کرنا ہے جو پاکستان اور امریکا دونو ں کیلئے خطرہ ہیں۔
سفارتخانے کے بیان میں کہاگیا کہ تمام ملاقاتوں میں وزیرخارجہ نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ ٹلرسن نے اس ماہ ایک امریکی خاتون ،اس کے شوہر اور تین بچوں کو بازیابی پر پاکستان کاشکریہ ادا کیا جنہیں ایک افغان مسلح گروپ نے 2012ء میں افغانستان سے اغواء کیاتھا۔








