اسلام آباد میں اہم سفارتی سرگرمی، ایرانی وفد کی وزیراعظم سے ملاقات
شیعیت نیوز : پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری اعلیٰ سطح کے سفارتی مشن کے دوران ایران کے اہم وفد نے امریکا کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی۔
ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات امریکا کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات سے پہلے ایک کلیدی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس میں پاکستان بطور میزبان اور سہولت کار اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے مذاکرات میں اپنی “سرخ لکیریں” واضح کر دیں، میڈیا رپورٹس
دوسری جانب عباس عراقچی نے اپنے جرمن ہم منصب سے گفتگو میں واضح کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں "مکمل عدم اعتماد” کے ساتھ شامل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کی جانب سے بار بار وعدہ خلافیوں اور سفارتی رویے نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے مؤقف پر ڈٹا رہے گا۔
ادھر پاکستان کے سابق ایئر مارشل مسعود اختر کے مطابق ان مذاکرات میں امریکا کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلوانا ہے تاکہ عالمی تجارتی راستہ بحال ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ایٹمی پروگرام کے معائنے کا خواہاں ہے، تاہم ایران اس معاملے پر اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کو سفارتی سطح پر کچھ برتری حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ امریکا جلد نتائج کا خواہاں ہے، جس کے باعث یہ مذاکرات خطے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔







