پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور فعال، پہلی برآمدی کھیپ روانہ
شیعیت نیوز: پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا اور اس کوریڈور سے پاکستان سے پہلی برآمدی کنسائنمنٹ بھی بھیج دی گئی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثناء اللہ ابڑو نے بتایا کہ پہلی برآمدی کھیپ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان، تاشقند کے لیے منجمد گوشت پر مشتمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے اشیا کی کنسائنمنٹس گوادر، ایران کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو امریکی بنکر بسٹر بم صحیح سالم حالت میں مل گیا، GBU-39 بم کی ریورس انجینئرنگ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کی نہ صرف معیشت کی نمو کی رفتار تیز ہو جائے گی بلکہ پاکستانی بندرگاہوں پر رش بھی بڑھ جائے گا۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا عملی آغاز ٹی آئی آر کے تحت کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز نے ٹی آئی آر کے طریقہ کار کو مؤثر بناتے ہوئے ٹی آئی آر ٹرانزٹ کے لیے تافتان، رمدان، سوست، گوادر اور دیگر اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو فعال کیا ہے۔
پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور پاکستان کی تجارت اور ٹرانزٹ شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور اس پیشرفت کو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ علاقائی رابطوں کو بھی نئی جہت دے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کو سمندری راستوں پر انحصار کم کرتے ہوئے ایک متبادل اور کم لاگت تجارتی راستہ میسر آئے گا، جس سے ٹرانزٹ دورانیے اور کاروباری لاگت میں خاطر خواہ کمی ممکن ہو سکے گی۔
اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثناء اللہ ابڑو اور ڈائریکٹر ٹرانزٹ محمد راشد نے پہلی کنسائنمنٹس کو روانہ کیا۔







