امریکا کی نئی افغان پالیسی قومی اسمبلی نے مسترد کردی، افغانستان طالبان کے ٹھکانے ختم کرے، متفقہ قرارداد

31 اگست, 2017 00:00

شیعیت نیوز:  امریکا کی نئی افغان پالیسی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کیخلاف قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کرلی۔ ایوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن کے الزامات پر مبنی بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، امریکا کو زمینی و فضائی کمیونی کیشن میں تعاون کی فراہمی معطل اور دورے ملتوی کرنے پر غور کیا جائے، افغا نستا ن اپنی سرزمین پر طالبان کے ٹھکانے ختم کرے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قرارداد پیش کی جسے منظور کرلیا گیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان تضحیک آمیز ہے، امریکی پالیسی مسترد کرتے ہیں، قرارداد پر خورشید شاہ، شاہ محمود اوردیگر ارکان قومی اسمبلی نے اظہار خیال کیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن کے الزامات پر مبنی بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، امریکا کو زمینی و فضائی کمیونی کیشن میں تعاون کی فراہمی معطل کرنے پر غور کرے، یہ ایوان امریکی حکام کے دورہ پاکستان کی منسوخی اور پاکستانی حکام کے دورہ امریکا کی منسوخی کے حوالے سے اقدامات کو تسلیم کرتا ہے اور حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق صاف اور واضح انداز میں امریکی حکومت کو حالات سے آگاہ کرے، یہ ایوان امریکی حکام کے دورہ پاکستان کی منسوخی اور پاکستانی حکام کے دورہ امریکہ کی منسوخی کے حوالے سے اقدامات کو تسلیم کرتا ہے اور حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق صاف اور واضح انداز میں امریکی حکومت کو حالات سے آگاہ کرے-
افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں، حکومت دوست ممالک بالخصوص خطے کے ممالک کے ساتھ موثر سفارتکاری کے ذریعے بات چیت کا عمل تیز کرے، امریکا ، نیٹو اور افغانستان کی حکومت یہ یقینی بنائے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردحملوں کے لئے استعمال نہیں کریگا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات اور قربانیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے اور انہیں اس حوالے سے ناکام امریکی پالیسی سے بھی آگاہ کیا جائے، افغانستان میں امریکی فوج اور افغان سیکورٹی ادارے پاکستانی علاقے میں دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں، افغان حکومت وہاں پر موجود پاکستانی طالبان، مجلس احرار اور دیگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے جہاں سے وہ پاکستانی علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا،یہ ایوان اس امریکی دعوے کو بھی مسترد کرتا ہے جس میں انہوں نے پا کستا ن کو اربوں ڈالر دینے کی بات کی ہے، پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 123 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، امریکی صدر کے اس بیان سے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو نظر انداز اور بے توقیر کیا گیا ہے، اس جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں۔

3:38 شام مارچ 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔