مذہبی جماعتوں نے حکومت کیخلاف اتحاد بنا لیا، جلد سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ
شیعیت نیوز: قانون نافذ کرنیوالے ایک ادارے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاناما لیکس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہونے کے بعد مذہبی جماعتوں نے حکومت کیخلاف محاذ کھولنے کیلئے باہمی روابط کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ان رابطوں میں مزید تیزی آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مذہبی جماعتوں میں حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دینے میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذہبی جماعتوں کے مابین پس پردہ روابط میں اس امر پر اتفاق ہو چکا ہے کہ مسلکی اختلافات، خدشات اور معاملات سے بالاتر ہو کر ایک ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو بیک وقت حکمران جماعت کی مختلف حوالوں سے خامیوں کی نشاندہی کرے بلکہ حکومت میں موجود ایسے عناصر کیخلاف بھی ایک مہم چلائے جو گزشتہ برسوں کے دوران کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورکس سے روابط رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی اہم ترین جماعت کی جانب سے رابطوں کے بعد مذہبی جماعتوں نے باضابطہ طور پر نواز شہباز حکومت کیخلاف وائٹ پیپر بھی جاری کرنے کیلئے کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قوی اندیشہ ہے کہ آئندہ چند روز میں لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں ممتاز قادری کی پھانسی کے پس پردہ محرکات کو سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ لے اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو جائے۔ ذرائع کے مطابق مذہبی جماعتیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے بھی نئے عزم سے احتجاجی تحریک چلائیں گی جس کیلئے تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے جس کے باعث وہ وطن واپس آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان عوامی تحریک نے 15 جولائی کو لاہور میں احتجاج کی کال بھی دی ہے۔








