آرمی پبلک اسکول شہداء کی فیملی نے دہشتگرد احسان اللہ احسان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا
شیعیت نیوز: آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی فیملی پر مبنی فارم نے منگل کے روز پشاور ہائی کورٹ میں سابق کالعدم طالبان کے ترجمان دہشتگرد احسان اللہ احسان کی پھانسی کے حوالے سے درخواست دائر کی ہے ۔
یاد رہے کہ ۲۰۱۴ میں ایک خطرناک دہشتگردانہ حملہ میں آرمی پبلک اسکول کے 144 طلبہ شہید ہوگئے تھے، اس وقت احسان اللہ احسان کالعدم تحریک طالبان کا ترجمان تھا۔
شہید ہونے والے طلبہ کی فیملی پر مبنی شہداء فارم جسکے صدر فیض خان ہیں جو پیشہ سے وکیل بھی ہیں نے کہاکہ آرمی پبلک اسکول کےذمہ دار احسان اللہ احسان کو حکومت کی جانب سے معافی دیے جانے سے روکا جائے۔
فیض خان نے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی رٹ میں حکومت پاکستا ن سمیت حکومت خیبر پختونخوا، وزارت دفاع، وزارت انسانی حقوق،وزارت پارلیمانی امور، ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اور جی ایچ کیو کو مدعی قرار دیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں لکھا گیا کہ آرمی پبلک اسکول حملے کے اگلے روز ہی دہشتگر د احسان اللہ احسان نے اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اسی طرح کے مزید حملے کرنے کا اعلان بھی کیا تھا ، اس میںمزیدلکھا گیا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول حملہ میں ملوث اہم دہشتگرد کی گرفتار ی نے یہ امید دلائی کہ اب اسے انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے گا، لیکن بدقسمتی سے احسان اللہ احسان کو انصاف کے کٹھرے سے دور رکھا ہوا ہے۔
فیض خان نے پٹیشن میں کہا کہ دہشتگرد احسان اللہ احسان کو انجان اور معصوم بناکر پیش کیا جارہا ہے،ایسا دیکھانے کی کوشیش کی جارہی ہے کہ جیسے اس نے انجانے میں اسکول کے بچوں کو ذبح کیا اور دیگر دہشتگرادنہ حملے کیئے۔
شہداء فارم کے صدر نے احسان اللہ احسان کے معمالے کو آرمی کورٹ میں لے جانے کا مطالبہ کیا۔
شہداء کی فیملی نے مزید کہا کہ قصاص (خون معاف) کرنے کا حق صرف اور صرف شہداء کی فیملی کو حاصل ہے لہذا ریاست کے پاس احسان اللہ احسان کو معاف کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔