دو ماہ میں داعشی اتحاد کی مسلط کردہ جنگ میں 150 پاکستانی شہید ہوئے، رپورٹ
شیعیت نیوز: رواں سال فروری سے داعش کے زیر سایہ منعظم ہونے والے دہشتگردوں کے اتحاد نے پاکستان پر نئی جنگ مسلط کردی ہے، گذشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردی کی تازہ لہر نے ملک کے مختلف شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے بعد افواج پاکستان نے فسادیوں کے خاتمے کے لیے ’آپریشن ردالفساد‘ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
رواں برس 13 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت 13 افراد شہیداور 85 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ ‘جماعت الاحرار’ (داعش) نے قبول کی تھی۔
13 فروری کو ہی کوئٹہ میں سریاب روڈ میں واقع ایک پل پر نصب دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کمانڈر سمیت 2 افراد شہید ہوگئے تھے۔
15 فروری کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری بھی’جماعت الاحرار’ (داعش) نے قبول کی تھی۔
15 فروری کو ہی پشاور میں ایک خود کش حملہ آور نے ججز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
16 فروری کو صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 80 سے زائد افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری داعش(جماعت الاحرار) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعرات 16 فروری کو ہی بلوچستان کے علاقے آواران میں سڑک کنارے نصف دیسی ساختہ بم پھٹنے سے پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت 3 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
21 فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ضلع کچہری پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 5 افراد شہید اور 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 خود کش حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔
23 فروری کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد شہید اور 21 زخمی ہوگئے۔
31 مارچ کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی کرم ایجنسی (پارچنار) میں دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد شہید جبکہ 57 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
بشکریہ : ڈان نیوز








