سعودی عرب کی 1000 لڑکیاں ہر سال ملک سے باہر فرار ہوجاتی ہیں

23 مارچ, 2017 00:00

سعودی عرب کے معاشرے کی وہابی قدامت پسندی کے بارے میں تو سب جانتے ہیں لیکن دارالحکومت ریاض کی ایک ممتازیونیورسٹی سے وابستہ ماہر عمرانیات کے اس دعوے نے سب کو حیران کردیا ہے کہ سعودی معاشرتی و صنفی امتیاز سے تنگ آ کر ہر سال 1ہزار سے زائد سعودی لڑکیاں ملک سے فرار ہوجاتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حیرت انگیز انکشاف امام محمد ابن سعود یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار منصور العسکر نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی معاشرے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور خصوصاً صنفی امتیاز کے باعث خواتین ملک سے فرار ہو رہی ہیں، اور جو ملک چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ نسبتاً لبرل شہر جدہ چلی جائیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب کا قانون وہابی انتہا پسند نظریہ پرمبنی ہے اگر یہ قانون اسلامی نظام پر مبنی ہو تو مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔ اسلام نے عورتوں کو ان کی صنف کے مطابق برابر حقوق عطا کئے ہیں۔

4:46 شام مئی 31, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔