لاہور: کالعدم جماعت کا سرکاری اسکول میں ا نسداد دہشتگردی سیمینار کا اہتمام، نیشنل ایکشن پلان ؟؟

19 جنوری, 2017 00:00

شیعیت نیوز: لاہور میں کالعدم جماعت کے زیر اہتمام اسکولوںطلباء کو دہشتگردی سے دفاع کی تربیت کے عنوان سے سیمنار منعقد کیا گیا،جو سوالیہ نشان ہے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دی گئی جماعت کے کالعدم طلباء ونگ کے اراکین کو کس قانون کے تحت یہ سیمنار کرنے کی اجازت دی گئی؟

تفصیلات کے مطابق المحمدیہ سٹوڈنٹس کے زیراہتمام گورنمنٹ بوائز ہائی سکول گرین ٹاؤن لاہور اور الائیڈ پبلک سکول چونیاں میں انسداد دہشتگردی سیمینارز کا اہتمام کیا گیا جس میں طلبا کو دہشتگردانہ حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرنے کی تربیت دی گئی۔ سیمینار میں سکول کے ہائی حصہ کے طلباء نے شرکت کی اور بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ انسداد دہشتگردی سیمینار میں طلباء کو ممکنہ دہشتگردی کی صورت میں دستیاب وسائل سے اپنا اور سکول کا دفاع کرنے کے متعلق آگاہ کیا گیا۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس جنوبی لاہور کے مسؤل عبدالرحمن نے لاہور میں طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی کیخلاف حالت جنگ میں ہے، ایسی صورتحال کے پیش نظر طلباء کو تیار رہنا چاہیے، دہشتگرد اگر ہمارے کسی تعلیمی ادارے پر حملہ کر دیں تو ہمارے نوجوانوں کو اپنا حوصلہ بلند رکھتے ہوئے اپنا اور دوسروں کا دفاع کرنا چاہیے۔

المحمدیہ سٹوڈنٹس قصور کے مسؤل محمد عکاشہ نے الائیڈ سکول چونیاں کے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ طلبا کے پاس بھاری بستے، نوکدار پنسل اور اسی طرح کی دیگر اشیاء ان کے دفاع میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، اِن کے مناسب استعمال سے ہم کسی بھی دہشتگرد کو اس کے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام کر سکتے ہیں۔ باچا خان یونیورسٹی کے طلباء کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں طلبا نے جرات مندی اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا تھا، اسی طرح ہمارے ہر تعلیمی ادارے کے طلبا دہشتگردوں کیخلاف اپنے حوصلے بلند رکھیں۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس کی طرف سے سکول کے حفاظتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس میں مزید بہتری کی تجاویز بھی دی گئیں جنہیں ہیڈ ماسٹر کی جانب سے سراہا گیا اور ان پر عملدرآمد کا عزم کیا گیا۔

واضح رہے کہ المحمدیہ اسٹوڈنٹس کالعدم لشکر طیبہ کا طلباء ونگ ہے ، ان دونوں جماعتوں کو پاکستان سمیت عالمی سطح پر بھی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔

قابل غور مسئلہ ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے انکی حکومت پر تنقید کرنے والے بلاگرز کو خفیہ طریقہ سے غائب کیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب کالعدم جماعتوں کو سرکاری اسکولوں میں سیمنار کرنے کی اجازت ہے۔ اس مسئلہ لے کر سوشل میڈیا پر بھی پنجاب حکومت پر کافی تنقید کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ پنجاب حکومت دراصل دہشتگردوں کی سہولت کار ہے، جبکہ سنجیدہ طبقہ کا کہنا ہے کہ اس طرح ان بچوں کے نظریات پر بھی بر ا اثر پڑے گا جب وہ بچے کالعدم جماعتوں کو اپنا آئیڈیل بنالیں گے اس سے شدت پسند ی میں بھی مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔

2:15 شام مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔