وزیر داخلہ نے دہشتگرد مدارس کو کالعدم قرار دینے کی سندھ حکومت کی درخواست مسترد کردی

13 جنوری, 2017 00:00

شیعیت نیوز: سندھ حکومت کی جانب سے ‘مشتبہ’ مدارس کے خلاف کارروائی کے مطالبے کو وفاق نے مسترد کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی معلومات کو ‘ناکافی، مبہم اور اس حوالے سے پیش کیے جانے والے ثبوتوں کو ناقابل اعتبار’ قرار دے دیا۔

مطالبے کے برعکس، اپنے جوابی خط میں وزارت داخلہ نے سندھ حکومت سے متعلقہ مشتبہ قرار دیے جانے والے مدارس کے خلاف صوبائی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں، اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا صوبائی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ‘اگر ان مدارس سے منسلک افراد کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں، تو صوبائی حکومت، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟’

صوبائی حکومت کو دیے گئے جواب میں وزارت داخلہ نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ‘نامکمل معلومات’ اور ‘مبہم زبان’ اس بات کا تاثر دے رہی ہے کہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے لکھا جانے والا خط دہشت گردی کے خلاف جاری نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عمل درآمد کے حوالے سے ‘کچھ سیاسی مقاصد کے حصول اور ان کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں کو چھپانے’ کیلئے بھیجا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی فہرست میں مشتبہ مدارس کے مکمل پتے موجود نہیں ہیں اور جبکہ ان کی جانب سے فراہم کی جانے والی فہرست میں دیگر صوبوں میں قائم مدارس کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں، جس میں خیبرپختونخوا، پنجاب اور فاٹا شامل ہیں’۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ‘سندھ حکومت نے ان مدارس کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے جو ان کے انتظامی حدود میں نہیں آتے اور صوبے کی جغرافیائی حدود سے باہر ہیں جبکہ بغیر ٹھوس شواہد کہ ایسا کرنا ناقابل فہم ہے’۔

وزارت داخلہ نے جواب میں مزید کہا کہ ‘ظاہری طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی انتظامیہ نے کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کیلئے موجود قانون کا صحیح انداز میں مطالعہ نہیں کیا’۔

وزارت داخلہ نے صوبائی حکومت کو ‘مشورہ’ دیا کہ اپنی ‘جغرافیائی حدود’ کو دیکھتے ہوئے ‘معتبر’ معلومات فراہم کی جائیں اور اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ ‘مدارس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کیلئے قانونی جواز کی ضروری ہے’۔

خیال رہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے سندھ پر حکومت کرنے والی ملک کی اہم اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی گذشتہ کچھ ماہ سے وفاقی وزیر داخلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہی ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے انکشاف کیاتھا کہ سندھ حکومت نے ان کی وزارت کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں 94 ‘مشتبہ’ مذہبی مدارس کو کالعدم قرار دینے کو کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ‘یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے، آپ مدراس کو کیسے کالعدم قرار دے سکتے ہیں؟’

ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مدارس کے خلاف صوبے کو خود کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔

چوہدری نثار نے کہا تھا کہ سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ فہرست میں دیگر صوبوں میں موجود مدارس کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے قبل کہ وزارت داخلہ کو مذکورہ فہرست فراہم کی جاتی وزیراعلیٰ نے اس پر بیان بھی دیا تھا۔

بشکریہ ڈان نیوز

1:56 شام اپریل 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔