سعودی عرب

شاہی تخت کیلیے خاندان آل سعود میں کھینچا تانی

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک )وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا کہ محمد بن سلمان کی معاشی پالیسی اور یمن پر حملہ کرنے کی سیاست کو بڑے پیمانے پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اسی وجہ سے محمد بن نائف کی جگہ محمد بن سلمان کو فرمانروا بنائے جانے کی خبروں پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاہ سلمان کے بھائی مقرن بن عبد العزیز نے اپریل 2015 میں ولیعہدی سے استعفیٰ اسی لیے دیا تھا تاکہ سعودی فرمانروا کے بیٹے محمد بن سلمان کے لیے راستہ ہموار ہوسکے۔
اسی طرح شہزادہ محمد بن نائف بھی الجزائر کے ساحلوں پر لمبی چھٹیوں پر چلے گئے تھے اور ریاض کے اہم فیصلوں سے دور رہے۔ ان دونوں باتوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ محمد بن نائف کو کنارے لگانے کی تیاری ہورہی ہے۔
مگر پھر ماہ ستمبر میں شہزادہ محمد بن نائف نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی، اس کے بعد اسی مہینے میں انہوں نے ترکی کا سفر کیا جس میں انہوں نے ایران اور شام کے حوالے سے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے گفتگو کی اور پھر انہوں ںے امریکہ کے اعلیٰ فوجی افسروں سے ملاقاتیں کیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بن نائف اپنے موقف سے پیچے نہیں ہٹے ہیں اور ولیعہد رہ کر فرمانروائی کی کرسی پر قبضہ جمانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔شہزادہ محمد بن نائف کی سرگرمیوں نے شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کے سعودی فرمانروا بننے کے امکانات کم کردیئے ہیں۔
خاندان آل سعود کے ایک رکن نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ تمام معاملات اب محمد بن نائف کے ذریعے ہی طے کئے جاتے ہیں کیونکہ محمد بن سلمان اس وقت بیک فٹ پر چلے گئے ہیں۔خاندان آل سعود کے ایک دوسرے رکن نے پیشنگوئی کی کہ محمد بن سلمان جلد ہی بن نائف کو کنارے لگاکر سعودی فرمانروا بن جائیں گے۔
مذکورہ رکن نے بتایا کہ بن سلمان اس وقت یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مستقبل کے فرمانروا بنیں گے کیونکہ وہ غیرضروری اقدامات کے ذریعے شاہی کرسی پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے بالخصوص ایسے حالات میں کہ جب ملک بحرانی حالات سے گزررہا ہے۔خاندان آل سعود کے راز فاش کرنے والے مشہور بلاگر مجتہد کا کہنا ہے کہ اس وقت خاندان آل سعود میں بن سلمان اور بن نائف کی فرمانروائی پر کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button