آل سعود، عوام اور اسلام
سعودی عرب کے اندر معاملات خراب ہو رہے ہیں جو سعودی حکومت کے لئے بھی چیلنج بنتے چلے جا رہے ہیں سعودی حکومت اپنی پالیسیوں میں آئے دن تبدیلیاں لا رہی ہےجس میںان کے اپنے شہریوں کو تو فائدہ ہو گا مگر دیگر ممالک کے مزدوروں اور کام کرنے والوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو گا ۔ ایک نئی حکمت عملی کے تحت مختلف کمپنیوں میں غیر ملکی افراد کی بجائے اب مقامی لوگوں کو رکھا جا رہا ہے اور بیشتر اداروں اور کمپنیوں سے غیر سعودی افراد کو نکالا جا رہا ہےسعودی عرب میں اب دیگر ملکوںکے لوگوں کے لئے قانون میں سختی کی جا رہی ہےاور نامکمل دستاویزات رکھنے والے غیر ملکیوں کو ایک ایمر جنسی ایگزٹ لگوا کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ایک ویب سائٹ کے مطابق اب تک سینکڑون غیر ملکی ایمرجنسی ایگزٹ کی وجہ سے اپنے اپنے ملک جا چکے ہیں سعودی قانوں میں یہ درج کیا گیا ہے ملک نہ چھوڑنے والوں کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا ۔
سعودی عرب کے ،نتاقات ،قانون کی وجہ سے وہاں پر کام کرنے والی کمپنیوں کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کہ وہ اپنے ملازمین کی بھرتی کرتے وقت اپنے ملکی باشندوں کو ترجیح دیں ۔ سعودی عرب میں ہزاروں ایسے غیر ملکی موجود ہیں جن کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن وہ اپنے خاندان کی کفالت کی مجبوری کی غرض سے سعودیہ میں کام کر رہے ہیں اس قانون سے ان کے لئے بیشمار مشکلات پیدا ہو رہی ہیں
حالانکہ، ‘نتاقات، کا قانون کوئی نیا قانون نہیں لیکن اب تک سعودی حکّام نے اس کے نفاذ کے لئے خاص طور پر کوششیں نہیں کی تھیں اور اب جبکہ اس قانون کو سختی کے ساتھ نافذ العمل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا نظر آتا ہے ۔سعودی عرب میں مقیم 80 لاکھ سے زائد غیر ملکی تارکین میں سب سے زیادہ انڈینز شامل ہیں جن کی تعداد تقریباً 25 لاکھ ہے۔یمن پر مسلط کردہ کی وجہ سے سعودی معیشت کو سخت دھچکا لگا ہے جس کا براہ راست اثر مزدور اور ملازم طبقات پر پڑا ہے ، ملازمین کی تنخواہیں انہیں وقت پر نہیں مل رہیں اور ریاستی ملازمیں کی تنحوہوں میں کمی بھی کر دی گئ ہے جس کی وجہ سے متاثرہ ملازمیں اور مزدور طبقات سراپا احتجاج ہیں۔
ایک طرف حکومتی ملازمین کی تنحواہوں میں کٹوتی کی جا رہی ہے تو دوسری جانب سعودی شہزادوں کی شاہ خرچیوں پر بے دریغ قومی سرمایہ ضائع کیا جا رہا ہے وکی لیکس کی ایک ریپورٹ کے مطابق سعودی شاہی خاندان نے سعودی عوام کے پیسوں کو اپنی زاتی ملکیت سمجھ رکھا ہے شاہ عبدالعزیز بن سعودکے تمام فرزندوں کو بغیر کسی محنت یا خدمت کے مفت میں ماہانہ ۲ لاکھ ۷۰ ہزار ڈالر ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے جبکہ ان کے پوتوں اور پوتیوں کو بیت المال سے ماہانہ ۲۷ ہزار ڈالر وظیفہ دیا جاتا ہےجو انکی پیدائش کے ساتھ ہی ان کے اکاونٹ میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ماہوار وظیفے کے علاوہ سالانہ ۲ ارب ڈالر بھی شاہی خاندان کی نجی ضروریات کے لئے مختص کئے گئے ہیں
وکی لیکس کی ایک رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ سعودی تیل کے ۸۰ لاکھ بیرل میں سے ۱۰ لاکھ بیرل تیل کی قیمت بھی سعودی شاہی خاندان کے چھ بااثر افراد کے لئے مختص ہےجس کے مطابق روزانہ ۱۲ کروڑ ڈالر شاہی اکاونٹ میں جمع ہوتےہیں ۔ اس کے علاوہ سعودی عوامی بیت المال سے ماہانہ اربوں ڈالر مفت ہتھیا لئے جاتے ہیں ۔ ایک طرف سعودی بادشاہوں کی یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب اس ملک میں لاکھوں محتاج ضرورت مند غریب
اوربے روزگار افراد موجود ہیں جو ایک ٹائم کے کھانے کے لئے ترس رہے ہیں ۔۔کیا یہ ہے اسلام؟
سعودی عرب اور دیگر عرب حکومتوں نے پاکستان جیسی نظریاتی اسلامیریاست کو عرب لیگ کا مبصر بنانے کی بجائے بھارت کو عرب لیگ کا مبصر قرار دیا ہے۔ آج یمن میں جمہوریت کے تحفظ کے نام پر حملے کرنے والے سعودی فرماں روا آخر اپنے ملک میں جمہوریت قائم کیوں نہیں کرتے اور ۹۰ سال سے سے عوام پر خود اپنی ہی بادشاہت کو مسلط کیا ہوا ہے ۔۔ کیا یہ اسلام ہے ؟
مسلمانوں کے اندر تفریق ، مذہبی انتہا پسندی ، اغیار سے دوستی ، مسلم امہ سے جنگ ، اسرائیل سے محبت اور مظلوم فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے یہودی مظالم پر خاموشی ۔۔۔ کیا یہ اسلام ہے؟
جبکہ قران مجید تو یہ کہ رہا ہے ۔ اشدآ علی کفار و رحمآ بین ھم
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن








