علی کا علی سے مکالمہ: قیادت، قربانی اور تاریخ کا سبق
شیعیت نیوز: Ali Larijani اور Ali Khamenei کے درمیان آخری مکالمے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں قیادت، قربانی اور مزاحمت کے اصولوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے علی لاریجانی کے قتل کے اعلان کے بعد یہ سوال اٹھا کہ وہ ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ہونے کے باوجود اپنی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہ کر سکے۔ اسی تناظر میں ایک سفارتکار کے ذریعے ایک ایرانی اخبار میں شائع ہونے والا مکالمہ منظرِ عام پر آیا، جسے خود لاریجانی نے اپنی شہادت سے ایک روز قبل عوام کے سپرد کیا تھا۔
یہ مکالمہ دراصل دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کی روداد ہے، جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ حملے سے چند گھنٹے قبل ہوئی۔ علی لاریجانی، جو ایک اہم فائل کے ساتھ سپریم لیڈر سے ملاقات کے لیے آئے، اپنے قائد کو ممکنہ حملے اور قتل کے منصوبے سے آگاہ کرنے پہنچے تھے۔
گفتگو کے دوران لاریجانی نے سپریم لیڈر کو بتایا کہ دشمن نے انہیں ہر قیمت پر نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایک محفوظ مقام پر منتقلی کی تجویز بھی دی، تاکہ خطرے کے وقت انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب کا انکشاف: ایرانی افواج کو مکمل اختیارات، تیل کی ناکہ بندی کا سخت جواب دینے کا اعلان
مگر سپریم لیڈر نے اس تجویز پر غور کرتے ہوئے ایک مختلف نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود میدان سے غائب ہو جائیں تو اپنے سپاہیوں اور عوام کو استقامت اور حوصلے کا درس کیسے دے سکیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر Husayn ibn Ali کی مثال دی کہ انہوں نے کربلا میں اپنے انجام سے آگاہ ہونے کے باوجود میدان نہیں چھوڑا۔
جواب میں لاریجانی نے Muhammad al-Mahdi کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات غائب ہونا بھی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے، مگر سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ جب قوم اور فوج میدان میں موجود ہو تو قیادت کا پیچھے ہٹنا تاریخ میں ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر لاریجانی خاموش ہو گئے اور سپریم لیڈر نے ان کی تجویز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں رخصت کر دیا۔ بعد ازاں سپریم لیڈر نے اپنے خاندان کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا، اور کچھ ہی دیر بعد وہ حملے میں نشانہ بن گئے۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے باوجود ایران میں نظام کی تبدیلی کا کوئی امکان پیدا نہ ہو سکا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مکالمے نے یہ پیغام دیا کہ قیادت کا کردار صرف حکمت عملی تک محدود نہیں بلکہ عملی مثال بھی ہوتا ہے۔







