جھنگ ضمنی الیکشن، ایم ڈبلیو ایم کا آزاد ناصر انصاری کی حمایت کا اعلان
مجلس وحدت مسلمین نے ضمنی انتخاب حلقہ PP-78 جھنگ میں آزاد ناصر انصاری کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ ملازم حسین شاہ، سیکرٹری امور سیاسیات سید حسن رضا کاظمی اور ضلعی آرگنائزر انتخاب خان بلوچ نے جھنگ کی بااثر اور معتدل سیاسی شخصیت سابق رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضمنی انتخاب حلقہ PP-78 جھنگ میں آزاد ناصر انصاری کی مکمل حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہم شیخ وقاص اکرم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کیخلاف آواز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان سے امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ملک دشمن مٹھی بھر دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، اس الیکشن میں آئیں ہم سب مل کر عہد کریں کہ ملک دشمن تکفیری سوچ کی حامل قوتوں کو شکست دے کر ملک سے نفرت اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ہمیشہ بلا رنگ و نسل و مذہب مظلومین کی حمایت کی اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہیگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شدت پسندی کیخلاف سب سے پہلے آواز بلند کی، جس وقت ملک کی تمام جماعتیں ان ملک دشمن طالبان اور ان کے حواریوں سے مذاکرات کا راگ آلاپ رہی تھیں، ہم نے ان ملک دشمنوں سے مذاکرات کو شیطان سے مذاکرات قرار دیا تھا، بالآخر تاریخ نے یہ سچ ثابت کر دیا، ہم حلقہ پی پی 78 جھنگ میں شیخ وقاص اکرم گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد ناصر انصاری کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں، اس امید کیساتھ کہ وہ اس تاریخی شہر سے شدت پسندی اور مذہبی بیوپاریوں کی مکمل حوصلہ شکنی کرکے یہاں کے بسنے والوں کے درمیان امن، محبت اور بھائی چارے کی فضاء کو قائم رکھنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔ رہنمائوں نے مزید کہا کہ حلقہ پی پی 78 میں ضمنی الیکشن کے حوالے سے پوری قوم کی نظریں اس حلقے پر ہیں، جھنگ اور یہاں کے رہنے والے باسی قیام پاکستان سے لے کر ضیاء دور سے پہلے تک امن، محبت اور بھائی چارے سے رہ رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے چند شرپسندوں نے اس امن کی بستی کو آگ و خون میں نہلا دیا، مذہب کے نام پر بے گناہوں کا قتل عام ہوا، لوگ ہجرت تک کرنے پر مجبور ہوئے، لیکن ہمارے حکمران اور ارباب اختیار نے مٹھی بھر شرپسندوں کی سرپرستی کی، جس کا خمیازہ آج ریاست اور پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملت تشیع ہمیشہ سے امن اور بھائی چارے کا پیغام عام کرتی رہی ہے، ہم نے پاکستان بھر سے چوبیس ہزار سے زائد لاشیں اُٹھائیں، لیکن ریاست کیخلاف اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی، ہم تشدد اور انتہا پسندی کو حرام سمجھتے ہیں، ہم اہلسنت کے مقدسات، صحابہ کرام، امہات المومنین کی توہین کو عین فعل حرام سمجھتے ہیں اور یہ ہمارے مجتہدین کا فتویٰ بھی ہے، مذہب کے نام پر تفریق پھیلانے والے دراصل ملک میں انارکی پھیلانے کے لئے دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، کسی بھی مکتب کی تکفیر کو ہم گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں، جھنگ کے باسیو! ہم سب مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ ہمیں دشمنوں نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے باہم دست و گربیان کروایا، آو آج یہ عہد کریں کہ ان ملک دشمن قوتوں کے ایجنٹ تکفیری سوچ کو مل کر شکست دیں، تاکہ جناح اور اقبال کے پاکستان میں امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوسکے۔








