گلگت : یوم حسین منانا جرم : نواز حکومت نے ۱۴۸ طلبہ پر دہشتگردی کے مقدمات درج کردیئے،دھرنا جاری
شیعیت نیوز: گلگت دنیور میں ہزاروں طلباء اور عوام کا احتجاج تیسرے روز میں داخل ہوگیا ہے، ہزاروں مظاہرین صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کر رہے ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ گرفتار افراد کو رہا کیا جائے، 148 طلباء پر قائم دہشتگردی کے مقدمات ختم کئے جائیں اور گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں یوم حسین ؑ پر عائد پابندی ختم کی جائے۔ گلگت حکومت نے یوم حسین ؑ پر عائد پابندی کی خلاف ورزی پر دو روز قبل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنماء عارف حسین قنبری سمیت 14 طلباء کو گرفتار کیا تھا جبکہ 148 طلباء پر انسداد دہشتگردی کی دفعات تحت مقدمات درج کئے تھے۔ اس غیر منصافہ اور غیر قانونی اقدام کے خلاف طلباء اور عوام سراپا احتجاج ہیں۔ آخری اطلاع آنے تک رات کے آخری پہر بھی دھرنا جاری ہے اور دھرنے میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ دھرنے کے شرکاء پرعزم ہیں اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دھرنے میں دروس، خطاب کے علاوہ عزارادی بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ صوبائی حکومت ایک مخصوص مکتب فکر کو دیوار سے لگانے پر تلی ہوئی ہے اور گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب سے گلگت بلتستان کے عوام نے آئینی حقوق، سی پیک میں حصہ اور دیگر حقوق کے لئے منظم جدوجہد شروع کی ہے، فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوششیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ مظاہرین اور طلباء کا کہنا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں کوئی یوم حسین ؑ کا مخالف نہیں، لیکن صوبائی حکومت یوم حسین ؑ کو متنازعہ بناکر علاقے میں فرقہ واریت پھیلانا چاہتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یوم حسین ؑ کے انعقاد کو دہشتگردی سے تعبیر کرنا اور اس جرم میں گرفتاریاں عمل میں لانا صوبائی حکومت کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ اسلامی جمہوریہ کے آئین اور دستور کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنے ظالمانہ فیصلے واپس نہیں لیتی تو گلگت بھر میں حکومت گرانے کی تحریک چلائیں گے۔