کراچی: گلشن کے علاقہ میں تکفیری دہشتگردوں کی کار پر فائرنگ دو شیعہ جوان زخمی
کراچی کے علاقہ گلشن اقبال میں کالعدم اہلسنت و الجماعت کی فائرنگ سے دو شیعہ جوان زخمی ہوگئے، جنہیں آغا خان اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے، اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات گلشن اقبال میں رب میڈیکل کے پاس دو موٹر سائیکل سوار تکفیری دہشتگردوں نے کار پر فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں دو شیعہ جوان شدید زخمی ہوئے، انہیں طبعی امداد کے لئے آغا خان لے جایا گیا جہاں انکا علاج کیا جارہا ہے۔
دھیان رہے کہ کراچی میں ایک بار پھر ٹارگیٹ کلنگ او ر دہشتگرد کی لہر زور پکڑ رہی ہے اور اسکا شکار شیعہ مسلمان ہیں، ماہ محرم کے آغاز سے ابتک صرف کراچی میں شیعہ مسلمانوں پر چار حملے کیئے گئے ،5محرم کو کراچی کے علاقہ گلستان جوہر میں شیعہ اسکول ٹیچر اور انکے بیٹے پر حملہ کیا گیا تھا جسکے نتیجے میں منصور زید ی شہید اور انکا بیٹا زخمی ہوا تھا، اسی روز گلشن کے علاقہ میں خواتین کی مجلس پر کریکر حملہ کیا گیا جس میں باہر کھڑا نوجوان شہید ہوا، جبکہ گذشتہ دونوں ایف سی ایریا کی ایک امام بارگاہ میں خواتین ہی کی مجلس کو نشانہ بنایا گیا اس کریکر حملہ میں ایک کمسن بچہ شہید اور30 افراد زخمی ہوئےجبکہ اب یہ واقعہ رونما ہوا ہے جو شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردوں کی معنظم کاروائی ایک بار پھر شروع ہونے کی جانب واضح اشارہ ہے، اسکی سرپرستی کون کررہاہے؟
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گلشن اقبال میں عزاداروں کی گاڑی پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں، واقعہ میں ایک عزادار 22 سالہ عباس حیدر کاظم زخمی جبکہ کزن حسن جعفری محفوظ رہے تاہم ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، شہر قائد دہشتگرد آزاد اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آتے ہیں،سندد حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کی روک تھام میں ناکام ہوگئے، انہوں نے کہاکہ 5 محرم الحرام سے عزاداروں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے،دہشتگردی کے متواتر واقعات سے عوام کا اعتماد حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اٹھتا جارہا ہے، انہوں نے مطالبہ کیاکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کور کمانڈر کراچی شیعہ نسل کشی کے واقعات کا خود نوٹس لیں








