آل سعود کی ہٹ دھرمی، شامی حجاج بھی حج کی سعادت سے محروم
آل سعود کی ہٹ دھرمی کے سبب شامی حجاج اس سال بھی مناسک حج کی ادائیگی سے محروم رہیں گے۔
شامی عوام کی ہمدردی کے دعووں کے باوجود رواں سال کے دوران بھی سعودی حکومت نے شامی شہریوں کو فریضہ حج کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آل سعود نے مسلسل پانچویں سال بھی فریضہ حج کی ادائیگی کے متمنی شامی باشندوں پر مناسک حج کی ادائیگی پر پابندی لگا دی ہے۔ شام کے محکمہ اوقاف اور حج مشن کے سربراہ” محمد عبدالستارالسید” نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے اقدامات سے شامی عازمین حج کو بقول ان کے دین مبین اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی سے محروم کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حج حکم خدا اور الہی فریضہ ہے اور مسلمانوں پر اس کی ادائیگی واجب ہے۔
"محمدعبدالستارالسید” نے کہا کہ سعودی عرب کی شاہی حکومت کی وزارت حج نے شام کے محکمہ اوقاف کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے اور اس سلسلے میں کئے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت ہرسال تمام ملکوں کے ساتھ اس طرح کے سمجھوتے کرتی ہے، لیکن تمام مذہبی اور اخلاقی ضابطوں کی خلاف ورزی کر کے اس الہی فریضے کی ادائیگی کے لئے شامی حجاج کرام کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکا رہی ہے۔
شام کے وزیر اوقاف اور حج مشن کے سربراہ نے کہا کہ حرمین شریفین کے منتظمین کو جان لینا چاہیے کہ حجاج کرام کے آرام و آسائش اور ان کی سلامتی کو کسی بھی سیاسی اور مذہبی تعصب سے بالا تر ہوکر مہیا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام مسلمان کسی قسم کی مشکل کے بغیر فریضہ حج ادا کرسکیں۔
سعودی حکومت اگرچہ شامی عوام کی حمایت کا دعوی کرتی ہے تاہم اس کے باوجود آل سعود نے شامیوں کو مسلسل پانچ برسوں سے فریضہ حج کی ادائیگی سے روک کرانھیں اس سعادت سے محروم کر رکھا ہے۔