پاکستان اورایران کا دہشتگرد وہابی تنظیم داعش کے خلاف تعاون پر اتفاق

07 اگست, 2016 00:00

 شیعیت نیوز: پاکستان اور ایران کے درمیان شدت پسند تنظیم داعش اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے تعاون پر اتفاق ہو گیا۔ تہران میں ہونے والی ‘باہمی سیاسی مشاورت’ کے نویں دور کے موقع پر ہونے والی بات چیت میں دہشتگردی کے خلاف تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے پاکستانی وفد کی قیادت کی جبکہ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے ایشیا پیسیفک ابراہیم رحیم پور نے کی۔ 15 روز کے دوران دونوں ممالک کے اہم رہنمائوں کے درمیان ہونے والی یہ دوسری ملاقات ہے، اس سے قبل جولائی کے آخری ہفتے میں قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ اپنے ہم منصب سے ملاقات کیلئے ایران گئے تھے۔ اس دوران دونوں رہنمائوں نے سیکورٹی کے مسائل اور خاص طور پر سرحد پر سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

اب دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ دہشتگری اور شدت پسندی خاص طور پر داعش جیسی تنظیموں کی جانب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے رہنمائوں کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اجلاس میں خطے کی صورتحال اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے امور پر بھی گفتگو ہوئی جبکہ چاہ بہار بندرگارہ پر پاکستانی خدشات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

پاکستان کو چاہ بہار کے گوادر کی بندرگاہ کا حریف ہونے پر ہی نہیں بلکہ اس میں ہندوستان کی شراکت داری اور دونوں بندرگاہوں کے درمیان تعاون کے مستقبل پر بھی خدشات ہیں۔ سیکورٹی ادارے چاہ بہار میں ہندوستانی شراکت داری اور اس بندرگاہ کو افغانستان سے منسلک کرنے کے حوالے سے مجوزہ تجارتی راہداری کو سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاہم ایران کا موقف ہے کہ چاہ بہار اور گوادر ایک دوسرے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ اعزاز چوہدری نے ملاقات میں کشمیر کی موجودہ صورتحال سے بھی اپنے ایرانی ہم منصب کو آگاہ کیا اور انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ملاقات کی۔

9:05 شام اپریل 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔