مجلس وحدت مسلمین اور وزیر داخلہ کے درمیان مذاکرت کا پہلا دور بے نتیجہ ختم
شیعیت نیوز: وفاقی حکومت اور مجلس وحدت مسلمین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بےنتیجہ ختم ہو گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے ناصر عباس شیرازی اور اسد نقوی مذاکرات میں شریک ہوئے۔ مجلس کے نمائدہ وفد نے اپنے مطالبات سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا اور واضح کیا کہ پرامن احتجاج کو ایم ڈبلیو ایم کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئینی و قانونی مطالبات کو حکومت تسلیم کر لے۔ اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے کوئی ردعمل نہ دیا تاہم یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے واضح کیا کہ اگر حکومت پرامن احتجاجی مظاہرین کی بات نہیں سنے گی تو پھر مجبوراً شیعہ قوم کو اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ مجلس وحدت مسلمین نے اپنے مطالبات میں پنجاب میں بانیان مجلس پر درج ایف آئی آرز کے اندراج کا خاتمہ، مجالس و عزاداری پر باندی کا خاتمہ، ذاکرین و خطبہ پر ضلع اور بین الصوبائی پابندی کا خاتمہ، پاراچنار میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے ایف سی اہلکاروں کے خلاف انکوائری کمیشن بنانے اور گلگت بلتستان میں زبردستی زمینوں پر قبضے کا خاتمے اور ملک بھر میں ٹارگیٹ کلنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ کے پی کے حکومت پہلے ہی تمام مطالبات تسلیم کر چکی ہے اور اس وقت صوبہ میں مطالبات پر عمل داری کا سلسلہ شروع ہونا ہے








