سعودی عرب سے وابستہ مخالفین گروہ کے وفد کے سربراہ محمد علوش نے استعفی دے دیا
سعودی عرب سے وابستہ مخالفین گروہ کے وفد کے سربراہ محمد علوش نے جنیوا امن مذاکرات کی ناکامی پر احتجاج میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے-
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے وابستہ مخالفین کے گروہ کے وفد کے سربراہ محمد علوش نے جنیوا امن مذاکرات کی ناکامی اور مخالفین پر شامی فوج کے حملوں کے بہانے سے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے- علوش نے شام میں امن مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کو اپنے استعفے کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات، بشار اسد کے بغیر سیاسی اقتدار کی منتقلی کے تعلق سے،کسی نتیجے کے حامل نہیں رہے ہیں- علوش کا یہ بیان، شام کا تختہ الٹنے میں بشار اسد کے مخالفین اور ان کے ساتھیوں کی عاجزی و ناتوانی اور شامی مخالفین کے درمیان اختلافات گہرے ہونے کا غماز ہے-
روس نے ایک ماہ قبل اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے نام ایک مراسلے میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ شام میں سرگرم، سعودی حمایت یافتہ تکفیری گروہوں جیش الاسلام اور احرار الشام کو دہشت گردوں کی فہرست میں قرار دیا جائے- قابل ذکر ہے کہ جنیوا میں شام سے متعلق مذاکرات، مخالفین کی پیشگی شرطوں اور بعض غیر ملکی فریقوں منجملہ سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے روڑے اٹکائے جانے کے سبب بے نتیجہ ہی رہے اور ریاض کے حامی وفد نے مذاکرات سے پسپائی اختیار کرلی-
واضح رہے کہ شامی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ بشار الجعفری نے جنیوا میں ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے وابستہ مخالفین کے گروہ کے وفد کا سربراہ محمد علوش ایک دہشت گرد گروہ کا رکن ہے، جس نے دمشق میں غیر ملکی سفارت خانوں پر مارٹر گولوں سے حملے کئے ہیں- ان کا کہنا تھا کہ اسی دہشت گرد گروہ نے دمشق کے انجینیئرنگ کالج کے طلبا کو بھی قتل کیا تھا-