سعودی عرب

سعودی لیکس ’’مجتہد‘‘ کے تازہ ترین انکشافات

سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمدبن نایف منشیات کا عادی ہے ۔
انٹی نارکوٹکس ڈیپارنمٹ کے آفیسر ترکی اور اس کی گرفتاری کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے سعودی عرب میں منشیات کا پھیلاو اور آل سعود کے کردار پر چند اہم انکشافات
پہلا: سب سے بڑے منشیات فروش آل سعود خاندان کی بااثر شخصیات ہیںجو منشیات کی سمگلنگ اور پھیلاو میں’’وی آئی پی استثنی‘‘ (چیکنگ سے مستثنی حثیت)کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک بڑا زریعہ آمدنی ہے
دوسرا:یہ جو اس وقت منشیات پکڑے جانے کا شور مچایا جارہا ہے تو وہ ملک میں سمگل ہونے والی مقدار کے دس فیصد بھی نہیں ہے بات در اصل یہ ہے کہ شاہی خاندان کو حاصل استثنی immunity کے سبب نہ انہیں کوئی پکڑا سکتا ہے اور نہیں میڈیا اس بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے
تیسرا: اسکولوں اور یونیورسٹیوں ، فوجیوں، شہروں، دیہات اور صحرا نشینوں کے درمیان منشیات کا پھیلاو اور استعمال کے بارے میں خفیہ شماریات خوفناک اورانتہائی مایوس کن صورتحال کو بیان کرتی ہیں
چوتھا: عام طور پر سیکورٹی حکام اور خاص طور پر انٹی نارکوٹکس کے افراد اپنے عہدوں کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات کی روگ تھام کے بجائے اس کے پھیلا و کا سبب بنتے ہیں
پانچواں: کسٹمز اور بارڈرسیکوریٹی کے ایماندار آفیسرز جب کسی بااثر اور استثنی حاصل شخص کو روکتے ہیں تو  الٹا انہیں ہی نشانہ بنایا جاتا اور لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں ۔
اب ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئے کہ اس بات پر تبصرہ کرتے ہیں جو آفیسر ترکی نے کہی ہے
آفیسر ترکی نے جس مافیا کے بارے میں بات کی ہے کہ وزرارت داخلہ کے اعلی مناصب پر بیٹھے ایسے تین افراد ہیں جو بن نایف کے انتہائی خاص سمجھے جاتے ہیں
میں ان افراد کی لسٹ دے سکتا ہوں لیکن شائد یہ چیز کسی کو نقصان پہنچادے اس لئے جنہیںمزید تفصیل کی ضرورت ہو وہ ایمیل کے زریعے مجھ سے لے سکتا ہے
بن نایف اگر منشیات فروشوں کی حمایت و حفاظت کرتا ہے تو تعجب کی بات نہیں کیونکہ وہ خود بھی مختلف قسم کی’’ منشیات کا عادی ‘‘ہے ،ہم ان کے منشیات استعمال کرنے کے تمام پہلو سے واقف ہیں لیکن اس منحوس شے کی تفصیلات کے ذکر سے معزرت خواہ ہیں
بن نایف اپنے والد کی حیات کے وقت یورپ کے پرائیویٹ کلینک میں دو بار منشیات کے علاج کے داخل ہوئے ہیں ،لیکن ہر بار و ہ پھر سے نشے کی جانب لوٹ آتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ عنقریب اسے علاج کی پھر سے ضرورت پیش آرہی ہے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button