سعودی عرب

سعودی عرب اور صہیونی حکومت کے درمیان فوجی تعاون

شیعیت نیوز:ـعربی ٹی وی "العالم” کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  سعودی عرب اور اسرائیل  کے درمیان اس فوجی معاہدے میں تنگہ باب المندب ، خلیج عدن، کانال سوئز اور دریای احمر کے ساحلی ممالک پر نظارت اور کنٹرول شامل ہے۔

اس فوجی مرکز کی طرف سےاس سند کے منتشر ہونے کے رو سے  جزیرہ تیران کہ جسے حال ہی میں قاہرہ اور ریاض  نے سعودی عرب کے حوالے کرنے کا معاہدہ کیا ہے یہ دریای احمر میں تلابیب اور ریاض کی مشترکہ  کاروائی کا مرکز ہوگا۔

نیز  سعودی عرب کی طرف سے ایڈمرل "احمد بن صالح الزھرانی” اور اسرائیل کی طرف سے  جنرل "ڈیوڈ سلومی” مشترکہ فوجی کاروائی کے سربراہ منتخب کئے گئے ہیں۔

اس مرکز نے گذشتہ سال کئی سعودی فوجی افسروں کی مقبوضہ فلسطین  کے بندر حیفا کے   پولونیم سمندری  فوجی مرکزمیں تربیت حاصل کرنے کی خبر کو بھی فاش کردیا ہے۔

مصر اور سعودی عرب کے درمیان نئی سرحد بندی  اور مصر کی طرف دو جزیروں تیران اور صنافیر سے دستبرداری کی خبر نے مصر ی سیاسی اور اجتماعی محافل میں مخالفت کی لہر پیدا کر دی ہے۔

مصری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ ملک سلمان کے پانچ روزہ مصر دورے کے دوران  مقامات قاہرہ نے سعودی عرب سے  سالانہ 2سوکروڑ ڈالر نیز متنازعہ دو جزیروں سے استخراج شدہ گیس  کے قیمت کی 25 فیصد وصول کرنے کی صورت میں حق مالکیت ریاض کو دیے جانے پر اتفاق کر لیا ہے۔

"مجتہد”سعودی عرب کے پشت پردہ اسرار فاش کرنے والے  نے بھی    مصری صدر محمد عبدالفتاح السیسی اور سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان دو جزیروں "تیران” اور "صنافیر” پر اتفاق کرنے کی وجہ "اسرائیل کے ساتھ روابط” بیان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button