بھارتی ایجنٹ بھوش کی اعترافی ویڈیو جاری کردی گئی
شیعیت نیوز: ڈی جی آئی ایس پی آرنے آج اسلام آباد میں وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ساتھ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان سے گرفتار انڈین ایجنٹ نے بلوچستان سمیت کراچی میں تخریب کاری کا اعترا ف کیاہے، بھوش انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جو بلوچستان اور کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی پلانگ کررہا تھا، وہ ایرانی سرزمین چہابہار میں چھپ کر کام کررہا تھا،اس میں ایرانی حکومت اور انٹلیجنس کا کوئی کردار نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے پنجاب میں دہشتگردوں کی موجودگی کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے سامنے یہ معلومات بیان نہیں کی جاسکتی۔
واضح رہے کہ بلوچستان سے تین روز قبل انڈین ایجنٹ بھوش سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا جس نے بلوچستان اور کراچی میں دہشتگرد کالعدم مذہبی و علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ ربطوں کا انکشاف کیا تھا۔
پاک فوج نے بلوچستان سے گرفتار ہندوستانی جاسوس کی ویڈیو جاری بھی کر دی ہے جس میں کلبوشھن یادو نے ‘را’ سے تعلق کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔
کلبوشھن یادو کی ویڈیو وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دکھائی گئی۔
ویڈیو میں کل بھوشن یادو نے اعتراف کیا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی ‘را’ میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔
کلبوشھن کے مطابق 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔
کلبھوشن یادیو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے ‘را’ کا ہاتھ ہے۔
کلبھوشن یادو کا کہنا تھا کہ ‘را’ کی ایما پر بلوچستان میں سرگرمیوں میں مصروف رہا جس کا مقصد بلوچوں کو جرائم کی طرف راغب کرنا تھا۔
‘را’ ایجنٹ کی اعترافی ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے پاکستان اور بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے ہیں۔
عاصم باجوہ نے کہا کہ ‘را’ ایجنٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان میں جوائنٹ سیکریٹری اے کے گپتا اسے ہینڈل کررہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور کلبھوشن اس بات کا ثبوت ہے۔
انھوں نے مزید اضافہ کیا کہ ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی نہیں ہوسکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ گوادر پورٹ ‘را’ کا بڑا ہدف تھا۔
ایک سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ایرانی صدر کے سامنے بھی ہندوستانی دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے مزید تفتیش جاری ہے اور جلد تمام معلومات منظرعام پر لائی جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ کلبھوشن کے ذمے دہشت گردی کا نیٹ ورک بنانا، انھیں فنڈنگ اور اسلحہ مہیا کرنا تھا۔
پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی مداخلت کا مسئلہ اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر اٹھایا جانا چاہیے۔
ہندوستانی میڈیا میں آنے والے خبروں کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہا تھا اور قونصل رسائی کا معاملہ دیکھنا پڑے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کے حوالے سے کہا کہ را ایجنٹ کے براہ راست ہندوستانی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور را چیف سے رابطے تھے۔
ہندوستانی ایجنٹس کے حوالے سے ایرانی صدر سے بات چیت کے سوال پر پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر نے را کی مداخلت کا مسئلہ تحمل سے سنا تھا اور اُمید ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت جواب آئے گا۔
انھوں ںے مزید کہا کہ اس حوالے سے ایرانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ اطلاعات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فورسز کی کارروائیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عاصم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جس قسم کی فورس کی ضرورت ہوئی استعمال کی جائے گی۔
پنجاب میں جاری فورسز کے آپریشن کے سوال پر لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ راولپنڈی، ملتان اور دیگر علاقوں میں اس وقت بھی آپریشن جاری ہے۔








