عراق

حزب اللہ کے بعد حشد الشعبی سعودیہ کا نیا ھدف

شیعیت نیوز:حزب اللہ کے بعد کیا خلیج تعاون کونسل کم ازکم اپنی حد تک رپور ٹ کے مطابق عراق میں داعش کے دہشتگردوں کیخلاف جنگ کرنے والے عوامی رضاکار ( حشدالشعبی ) کو بھی دہشتگرد قرار دے سکتے ہیں ؟؟؟ جی ہاں ایسا ممکن ہے کیونکہ حالیہ چند ماہ سے جس قدر پروپگنڈہ حشد الشعبی کیخلاف ہواہے شائد حزب اللہ کیخلاف نہ ہوا ہو،  کیونکہ یہ حزب اللہ اور حشد الشعبی ھی ھیں جنہوں نے عوامی طاقت اور مزاحمت کے ذریعہ آمریکہ ، اسرائیل اور سعودیوں کے برانڈ داعش اور النصرہ کو عراق اور شام میں ناکامی سے دو چار کیا ۔ یہی وجہ ھے کہ انکا اگلا ھدف حشد الشعبی ھو سکتی ھے ۔۔  ان عرب تکفیری ملکوں کے سرکاری افراد نے بھی حشد الشعبی کو فرقہ واریت مسلکی بنیادوں پر قتل عام جیسے الزامات لگائے ہیں ، اس حوالے سے ویب سائیٹس بنی ہیں جنکا ہدف حشدالشعبی کو بدنام کرنا ہے ، لیکن عراق کی پوزیشن لبنان جیسی نہیں ہے عراق میں ان ممالک کا اثرورسوخ لبنان جیسا نہیں ہے وہاں ابھی تک ان کے مضطوط و فعال پروکسیز وجود میں نہیں آئے جو پہلے بنائے گئے تھے و اس وقت بکھر چکے ہیں ، لیکن فرقہ وارانہ آگ کو بڑھکانہ زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ حشد الشعبی کے ساتھ عراق کے اھلسنت ، عیسائی اور ایزدی بھی شامل ھوچکے ھیں اور وہ اسکو عراق اور اپنے لوگوں کا نجات دھندہ سمجھتے ھیں ۔۔۔ امریکیوں کی خواہش ھے کہ عراق کی تاریخی فتح موصل حشد الشعبی کہ ھاتھوں نہ ھو اور وہ اسکے لیے تمام کوشیشوں میں مصروف نظر آتا ھے کہ حشد الشعبی کو بدنام کرکے یا اس پہ پابندی لگوا کر اپنے مقاصد ( عراق میں قیام ) کو حاصل کرسکے

متعلقہ مضامین

Back to top button