سانحہ عباس ٹاون، ۳ سال بیت گئے، متاثرین ابھی تک نا بھولا سکے
شیعیت نیوز: کراچی کی تاریخ میں قیامت صغرا کا منظر پیش کرنے والے سانحہ عباس ٹاون کو آج تین سال بیت گئے ہیں، تاہم متاثرین ابھی تک اس منظر کو نا بھولا سکے، ۳ مارچ ۲۰۱۳ قیامت کے دن سے کم نا تھا جب ملک دشمن کالعدم مذہبی دہشتگردوں نےبارود سے بھر ی کار کو عباس ٹاون کے رش بھرے علاقہ میں کھڑی کردی، اس بارود کے پھٹنے سے سیکڑوں شیعہ و سنی مسلمان شہید ہوئے جبکہ کئی بچے ،جوان، بزرگ و خواتین اپاہیج ہوگئیں، کئی خاندان برباد ہوگئے، لوگوں کے بنے بنائے آشیانہ سیکنڈوں میں مذہبی دہشتگردوں کے شدت پسند نظریات کی بھیٹ چڑھ گئے۔
گذشتہ سال ان متاثرین سانحہ عباس ٹاون کو حکومتی امداد کے ذریعہ ایک بار پھر انکے گھر بناکر دیے جاچکے ہیں لیکن آج بھی ان متاثرین کے ذہنوں میں وہ قیامت بھر منظر محفوظ ہیں جو شاید بھولانا مشکل ہے، ایک ماں کیسے اُس منظر کو بھول سکتی ہےجب اسکے سامنے اُسکے ننھے معصوم بچے کا جنازہ لایا جائے جسے وہ روز تیار کرکے اسکول کے لئے روانہ کرتی رہی ہو، ایک بوڑھا جوان بیٹے کا لاشہ اُٹھنا کیسے بھول سکتا ہے، لیکن کربلانے ان متاثرین کا مصبتوں میں صبر کرناسیکھایا شاید اس سبب یہ جی رہے ہیں۔
شیعیت نیوز کے مطابق متاثرین سانحہ عباس ٹاون کا کہنا ہے کہ اس سانحہ نے ہماری دنیا ہی اُجاڑ دی تھی، لیکن حق کے راستہ میں جان و مال قربان کرنے کا درس ہمیں کربلا والوں نے دیا ہے، لہذا یہ مشکلات برداشت کرکے شاید ہم امام کے قریب ہوجائیں، کچھ نے کہا کہ دھماکہ کرنے والے کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا، اسلام کے نام پر دہشتگردی کرنے والے ان یہ دہشتگر د گم نام ہیں لیکن اس سانحہ کے شہداٗ کی یاد ابھی بھی زندہ ہےدنیا ان شہداٗ کو یاد کرتی ہے ہر سال ان کی یاد میں اجلاس منعقد کیئے جاتے ہیںاور یقیناً یزیدیت کو مٹنا ہے اور حسینیت کو ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سانحہ میں ملوث دہشتگردوں میں سے کچھ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، کاؤنٹر ٹیرریزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مطلوب تکفیری دہشتگرد محمد انور عرف مولوی عبداللہ کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا،اس دہشتگرد کے سر کی قیمت 25 لاکھ مقرر کی گئی تھی، تاہم اس گرفتاری کے بعد عدالت نظام سے اسےسزا ملی یا نہیں اس حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں۔