مقالہ جات

شام میں اسرائیل کی جدید حکمت عملی

اسرائیل نے شام میں نئی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جسے "جنگ کے اندر جنگ” نامی اسٹریٹجی کے ذریعے بیان کیا جا رہا ہے اور اسے اختصار سے "حبم” کا نام دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اسرائیل شام میں ایسی کارروائیاں انجام دے رہا ہے، جن کی وہ اعلانیہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ اس بارے میں اسرائیلی روزنامہ معاریو لکھتا ہے: "50 برس سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے اور اسرائیل نہ ہی اپنے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی انکار۔ اسرائیل نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ہمیشہ سے ابہام پر مشتمل یہ پالیسی اپنائی ہے۔ لیکن گذشتہ چند سالوں سے اسرائیل کی یہ ابہام والی پالیسی دیگر ایشوز تک بھی پھیل گئی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال مشرق وسطٰی میں اسرائیلی ائیرفورس کی جانب سے انجام پانے والی کارروائیاں ہیں۔ ابہام پر مشتمل اس پالیسی کی ایک اور مثال دمشق کے نواح میں حزب اللہ لبنان کے مشہور کمانڈر سمیر قنطار کے قتل کی صورت میں قابل مشاہدہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے، لیکن ابھی تک اسرائیلی حکام نے رسمی طور پر اس واقعہ کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیل آرمی نے "جنگوں کے اندر جنگ” یا "حبم” کی اصطلاح متعارف کروائی۔ اس سے مراد وہی جنگ ہے جسے اسرائیل آرمی نے ایران، شام، حزب اللہ لبنان، اسلامک جہاد اور حماس کے خلاف شروع کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل آرمی کے مختلف شعبوں خاص طور پر ملٹری انٹیلی جنس اور موساد نے بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔”
تحریر: علی ہادی

اسرائیل نے شام میں نئی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جسے "جنگ کے اندر جنگ” نامی اسٹریٹجی کے ذریعے بیان کیا جا رہا ہے اور اسے اختصار سے "حبم” کا نام دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اسرائیل شام میں ایسی کارروائیاں انجام دے رہا ہے، جن کی وہ اعلانیہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ اس بارے میں اسرائیلی روزنامہ معاریو لکھتا ہے: "50 برس سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے اور اسرائیل نہ ہی اپنے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی انکار۔ اسرائیل نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ہمیشہ سے ابہام پر مشتمل یہ پالیسی اپنائی ہے۔ لیکن گذشتہ چند سالوں سے اسرائیل کی یہ ابہام والی پالیسی دیگر ایشوز تک بھی پھیل گئی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال مشرق وسطٰی میں اسرائیلی ائیرفورس کی جانب سے انجام پانے والی کارروائیاں ہیں۔ ابہام پر مشتمل اس پالیسی کی ایک اور مثال دمشق کے نواح میں حزب اللہ لبنان کے مشہور کمانڈر سمیر قنطار کے قتل کی صورت میں قابل مشاہدہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے، لیکن ابھی تک اسرائیلی حکام نے رسمی طور پر اس واقعہ کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیل آرمی نے "جنگوں کے اندر جنگ” یا "حبم” کی اصطلاح متعارف کروائی۔ اس سے مراد وہی جنگ ہے جسے اسرائیل آرمی نے ایران، شام، حزب اللہ لبنان، اسلامک جہاد اور حماس کے خلاف شروع کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل آرمی کے مختلف شعبوں خاص طور پر ملٹری انٹیلی جنس اور موساد نے بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔”
اس کے بعد کئی بار ایسی ہی خبریں سننے کو ملیں۔ گذشتہ چند سالوں میں اسرائیل کی جانب سے سوڈان یا غزہ کیلئے آنے والے ایرانی اسلحہ کی سپلائی پر ہوائی حملوں کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایران اور حماس کے درمیان تعلقات پہلے سے نہیں رہے اور ان تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کے باوجود ابھی تک وہ اپنی پہلی صورتحال پر واپس نہیں آسکے۔ سوڈان کے حکمران عمر البشیر کا جھکاو بھی سعودی عرب کی طرف ہوگیا ہے اور اب وہاں ایران کے اڈے موجود نہیں۔ اسی طرح مصر میں بھی صدر عبدالفتاح السیسی اپنے ملک کے ذریعے حماس کو اسلحہ فراہمی کی اجازت نہیں دیتے اور اس کی روک تھام کیلئے شدید اقدامات انجام دیئے ہیں۔ لیکن اسرائیل نے شام میں حزب اللہ کے خلاف ہوائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد شام سے لبنان اسلحہ سپلائی ہونے سے روکنا ہے۔ اسرائیل نے شام میں جاری خانہ جنگی کو غنیمت جانتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ لبنان کو زیادہ مضبوط ہونے سے روکنے کیلئے شام میں اس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔”

متعلقہ مضامین

Back to top button