پاکستان

بنیادی قومی پالیسی تبدیل کئے بغیر پاکستان کسی غیرملکی محاذ پر اپنی افواج تعینات نہیں کرسکتا،رپورٹ

شیعیت نیوز: پاکستانی حکومت نے اپنے بخثو ہو نے کا ثبوت دیتے ہوئے داعش کے خلاف بنائے گئے تکفیری اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسکے پیش نظر کے کہ ہماری ملکی پالیسی میں شامل ہے کہ اقوام متحدہ امن مشن کے علاوہ اس کی فوج ملک سے ہابر تعینات نہیں کی جائے گی۔

اس سے قبل پاکستان امریکا کی جانب سے داعش کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے سے دو بار انکار کرچکا ہے، امریکا جانتا ہے کہ کس مہر کو استعمال کیا جائے لہذاعر ب کے ذریعے اتحاد بناکر پاکستان کو شام کرلیا ۔

دھیاں رہے کہ امریکا کو اس اتحاد کا آشرباد حاصل ہے۔

حالانکہ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ غلاموں والا رویہ اختیار کرتے ہوئے اس نام نہاد دفاع تکفیریت کے لئے بنائے گئے اتحاد میں شامل کیا، پاکستان اس بات سے آگاہ ہی نہیں تھا وہ کسی اتحاد کا حصہ بن گیا ہے، پہلے انکار کیا پھر اقرار کرلیا کیونکہ آقا کا حکم جو تھا۔

داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کے مبینہ اتحادی کے طور پر شامل ہونے کے حوالے سے گذشتہ ماہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ’ہم خطے سے باہر فوج کی شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتے‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے پہلے داعش جیسی تکفیری جماعت کو بشار الاسد کے خلاف بچوں کی طرح پالا لیکن جب بچہ جوان ہوکر گھر کو آگ لگانے لگا تو اس کے خلاف اتحاد بنانے لگا، آج مشرق وسطیٰ جس آگ میں جل رہا ہے وہ سعودی عرب کی دیں ہے، پاکستان جو ایک عرصہ سے دہشتگردی جن دہشتگردوں کے خلاف لڑرہا ہے وہ دہشتگرد کس کے پیسوں سے پل رہے ہیں اور انہیں کس کے نظریات نے پروں چڑھایا، طالبان ،جنداللہ، اہلسنت و الجماعت اور لشکر جھنگوی سمیت دہشتگرد مدارس کا سہولت کار کون ہے؟ کیا ہم بھول گئے کے سعودی ریال پر پلنے والے ان دہشتگردوں نے ۶۰ ہزار پاکستانیوں کو قتل کیا ۔

کیا آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا خون اور انکےمعصوم چہروں کو بھول گئے ؟

یاد رہے کہ سعودی عرب سے دوستی کی خمیازہ ہم نے یہ بھگتا کہ اسکے شدت پسند نظریات کی بھینٹ چڑھ کر پاکستان آگ و خون میں غلتاں ہوگیا ،لہذا اب مزید سعودی عرب کے ساتھ اتحاد کرکے ہمیں پاکستان کو کسی نئی جنگ میں پھنسا نہیں چاہیئے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button