حکومت کی دہشت گرد تنظیموں کی پرانی و نئی فہرست میں کوئی تبدیلی نہیں
طویل بحث مباحثہ، بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ لمبی پریس کانفرنسوں اور وقت گزارنے کے باوجود ن لیگ کی حکومت نے نظرثانی کے دوران ممنوع تنظیموں کی فہرست میں کوئی تبدیلی نہیں کی، ماضی قریب میں یہ فہرست اور نیکٹا کی سرکاری ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرنا وزارت داخلہ کے افسران اور نیکٹا حکام کے درمیان تنازع کا سبب تھی کیونکہ اس میں بعض انتہاپسند تنظیموں کو شامل کیا گیا تھا، اس سال فروری میں سیکرٹری داخلہ نے اسی تنازع پر نیکٹا کے سینئر افسر کو تھپڑ مار دیا تھا، اس واقعہ کے بعد کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست کو نیکٹا کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا، دہشت گردوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف جاری بھرپور جنگ کے دوران نیکٹا کئی ہفتوں کی سخت محنت کے بعد بھی اپنی سرکاری ویب سائٹ کی تعمیر کو حتمی شکل نہیں دے پائی، اس پر اب بھی زیرتعمیر لکھا نظر آ رہا ہے، مدت پوری کر چکنے والا نیشنل ایکشن پلان کے تحت بعض شہروں میں ریپڈ رسپانس فورس کے چند یونٹس شروع کیے گئے، مگر دہشت گردوں کے معاونین اور محفوظ پناہ گاہوں خصوصاً دہشت گردوں کے حقیقی گڑھ پنجاب میں کارروائی اب بھی خواب ہے، سینئر افسران نے انکشاف کیا کہ خفیہ معلومات کےفوری تبادلے کے لیے جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کا پلان بھی اداروں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا، دی نیوز کی درخواست پر نیکٹا نے حکومت پاکستان کی جانب سے ممنوع و کالعدم قرار دی گئی دہشت گرد تنظیموں کی نئی اور نظرثانی شدہ فہرست فراہم کی تاہم نئی اور پرانی فہرستوں کے تقابل سے اندازہ ہوا کہ درحقیقت فہرست میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور بار بار کے اعلانات محض وقت گزاری کا عمل تھا۔ تاہم نیکٹا کا کہنا ہے کہ فہرست پر مسلسل نظرثانی ہوتی رہتی ہے، ممنوع/ کالعدم تنظیموں کی فہرست درج ذیل ہے۔ (1) لشکر جھنگوی 14 اگست 2001ء (2) سپاہ محمد پاکستان 14 اگست 2001ء (3) جیش محمد 14 جنوری 2002ء (4) لشکر طیبہ 14 جنوری 2002ء (5) سپاہ صحابہ پاکستان 14 جنوری 2002ء (6) تحریک جعفریہ پاکستان 14 جنوری 2002ء (7) تحریک نفاذ شریعت محمد 14 جنوری 2002ء (8) تحریک اسلامی 15 نومبر 2003ء (9) القاعدہ 17 مارچ 2003ء (10) ملت اسلامیہ پاکستان (سابقہ ایس ایس پی) 15 نومبر 2003ء (11) خدام الاسلام 15 نومبر 2003ء (12) اسلامی تحریک پاکستان 15 نومبر 2003ء (13) جمعیت الانصار 20 نومبر 2003ء (14) جمیعت الفرقان 20 نومبر 2003ء (15) حزب التحریر 20 نومبر 2003ء (16) خیرالناس انٹرنیشنل ٹرسٹ 27 اکتوبر 2004ء (17) بلوچستان لبریشن آرمی 7 اپریل 2006ء (18) اسلامی اسٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان 21 اگست 2006ء (19) لشکر اسلامی 30 جون 2008ء (20) انصار الاسلام 30 جون 2008ء (21) حاجی نامدار گروپ 30 جون 2008ء (22) تحریک طالبان پاکستان 25 اگست 2008ء (23) بلوچستان ریپبلیکن آرمی 8 ستمبر 2010ء (24) بلوچستان لبریشن فرنٹ 8 ستمبر 2010ء (25) لشکر بلوچستان 8 ستمبر 2010ء (26) بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ 8 ستمبر 2010ء (27) بلوچستان مسلح دفاع تنظیم 8 ستمبر 2010ء (28) شیعہ طلبا ایکشن کمیٹی (گلگت) 10 اکتوبر 2011ء (29) مرکز سبیل آرگنائزیشن گلگت 10 اکتوبر 2011ء (30) تنظیم نوجوانان اہلسنت 10 اکتوبر 2011ء (31) پیپلز امن کمیٹی لیاری (کراچی) 10 اکتوبر 2011ء (32) اہلسنت والجماعت 15 فروری 2012ء (33) الحرمین فائونڈیشن (34) ربیعت ٹرسٹ 6 مارچ 2012ء (35) انجمن امامیہ گلگت بلتستان 24 اپریل 2012ء (36) مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت بلتستان 24 اپریل 2012ء (37) تنظیم اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان 5 جون 2012ء (38) بلوچستان بنیاد پرست آرمی 4 اگست 2012ء (39) تحریک نفاذ امن 4 اگست 2012ء (40) تحفظ حدود اللہ 4 اگست 2012ء (41) بلوچستان وایا لبریشن آرمی 4 اگست 2012ء (42) بلوچستان ریپبلیکن پارٹی آزاد 4 اگست 2012ء (43) بلوچستان یونائیٹڈ آرمی 4 اگست 2012ء (44) اسلام مجاہدین 4 اگست 2012ء (45) جیش اسلام 4 اگست 2012ء (46) بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی 4 اگست 2012ء (47)خانائے حکمت گلگت بلتستان 13 مارچ 2013ء (48) تحریک طالبان سوات 15 مارچ 2013ء (49) تحریک طالبان محمد 15 مارچ 2013ء (50) طارق گیدڑ گروپ 15 مارچ 2013ء (51) عبداللہ اعظم بریگیڈ 15 مارچ 2013ء (52) ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ 15 مارچ 2013ء (53) اسلامک موومنٹ آف ازبکستان 15 مارچ 2013ء (54) اسلامک جہاد یونین 15 مارچ 2013ء (55) 313 بریگیڈ 15 مارچ 2013ء (56) تحریک طالبان باجوڑ 15 مارچ 2013ء (57) امر بالمعروف ونہی عن المنکر 15 مارچ 2013ء (58) بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد 15 مارچ 2013ء (59) یونائیٹڈ بلوچ آرمی 15 مارچ 2013ء (60) جئے سندھ متحدہ محاذ 15 مارچ 2013ء،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت ان لسٹڈ1,الاختر ٹرسٹ،یکم دسمبر 2005, 2-الرشید ٹرسٹ یکم دسمبر 2005.








