طالبان خراسانی گروپ کیجانب سے صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں
کالعدم تحریک طالبان، عمر خالد خراسانی گروپ کی جانب سے صحافیوں کو قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔ طالبان کی جانب سے آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے مرکزی چیئرمین شبیر حسین طوری، کرم ایجنسی کے معروف صحافی محمد سلیم خان، وانا پریس کلب کے جنرل سیکرٹری دین محمد وزیر سمیت لاہور کے متعدد صحافیوں کو تحریری دھمکیاں ملی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں، ورنہ اپنی موت کا انتظار کریں۔ صحافیوں نے طالبان کے ان دھمکی آمیز خطوط پر متعلقہ حکومتوں سے رابطہ کیا ہے اور اپنے تحفظ کیلئے انتظامیہ سے درخواست کی ہے۔ لاہور کے صحافیوں نے مسلسل دھمکیوں کے خلاف سی سی پی او لاہور کو قانونی تحفظ و اندراج مقدمہ کیلئے درخواست دی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے کالعدم تحریک طالبان افغانستان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے مطابق نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور لاہور سمیت دیگر علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے صحافیوں کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے چیئرمین شبیر حسین طوری نے سانحہ پشاور سمیت کالعدم تحریک طالبان کے خلاف مختلف ادوار میں مضمون لکھے تھے، جس کی بناء پر کالعدم تحریک طالبان ان کی دشمن بن گئی ہے اور کئی ماہ سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے مذکورہ تمام صحافیوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔ ملک بھر میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے خدمات سرانجام دینے والی تنظیموں کی جانب سے تاحال مذکورہ صحافیوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ نہ ہو سکا، جبکہ بین اقوامی صحافتی تنظیموں کی جانب سے حکومت سے صحافیوں کو تحفظ دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے تمام عہدیداروں کا بھی اہم اجلاس جلد ہی طلب کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پریس کلب وانا کے جنرل سیکرٹری دین محمد وزیر کے خاندان کے چار افراد طالبان نے 2007 میں قتل کر دیے تھے۔