نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی، ایم ڈبلیو ایم کے گرفتار رہنماوں کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا
گلگت پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری سیاسیات غلام عباس اور سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی مطہر عباس کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے دونوں رہنما گزشتہ چار ماہ سے روپوش تھے، ان کے دیگر رہنماوں کے خلاف یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران احتجاجی مظاہرہ کرکے سعودی عرب کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ لگا کر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس میں ان کے ایک ساتھی عارف قنبری کو پولیس نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا، جس کو انسداد دہشت گردی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ جبکہ اس مقدمے کے ایک اور ملزم شیخ عیسی ایڈووکیٹ نے ضمانت قبل گرفتاری حاصل کر لی تھی۔ ایم ڈبلیو ایم کے گرفتار رہنماوں غلام عباس اور مطہر عباس کا انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ شہباز خان سے پولیس نے 28 جولائی تک کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں ایم ڈبلیو ایم کے اہم رہنما شیخ نیئر مصطفوی اور شیخ بلال سمائری تاحال روپوش ہیں اور پولیس ان کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مار رہی ہے۔








