داعش کے چنگل سے بھاگنے والی ایک چھوٹی بچی کی کہانی،اسی کی زبانی۔
شیعیت نیوز{مانٹرنگ ڈیسک}عالمی دہشت گردتنظیم داعش نے سرزمین عراق وشام میں انسانیت کی دھجیاں اڑاکے رکھ دیاہے،جہاں انہوں اپنےتکفیری افکارکی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا۔
العالم ٹی وی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں عالمی دہشت گردتنظیم داعش کے چنگل سے آزادہونے والی ایک بچی نے اپنی سرگزشت یوں سنادی:
میں اپنے گاوں”حردان”میں ایک دن دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی،کہ ناگاہ ہم نےکہ چند افراد ہماری طرف آگئےجنہیں ہم جانتے بھی نہیں تھے،پھرہم سے کہنے لگے کہ تم ہمارے غلام ہو یہ کہہ کرہمیں پکڑکراپنی گاڑیوں میں ڈال دیااورہمیں سوریالے جائے گئے، مجھے تواس جگہ کانام بھی پتا نہیں تھا لیکن میرے ساتھ بیٹھی میری ماں نے کہایہ سوریاہے۔
اس کے بعددہشت گردوں نےمجھے اپنی ماں سے جبری چھین کرتنہالے جاکرادھرموصل کے قریب ایک بڑے ہال رکھاجہاں میں ایک طویل عرصہ تک وہیں پررہی،جس دوران وہ مجھ سے بدفعلی کی خواہش کرتے تھے اورکئی مرتبہ میرے ساتھ ایساکرنے کی کوشش کی،لیکن پھروہ کہتے تھے،”اسے چھوڑدو،ابھی یہ چھوٹی ہے،یہ برداشت نہیں کرپائے گی،یہ مرجائے گی”۔
میں ان کی باتیں نہیں سمجھتی تھی،لیکن میں دیکھتی رہتی تھی کہ وہ میرے آنکھوں کے سامنےعورتوں اورلڑکیوں کوننگی کرکے ان کے بدفعلی کرتے رہتے تھے،ان کے ساتھ بہت ہی براسلوک کرتے تھے،انہیں نہایت ہی قلیل مقدارمیں کھانادتے تھے،اوران میں سے جوبیمارہوجاتی تھیں انہیں فوراقتل کرتے تھے۔
اس دوران وہ ہروقت ہمیں ایک جگہ سے جگہ دوسری منتقل کرتے رہتے تھے، یہاں تک ایک ہمیں تلعفرلایاگیاجہاں سے ہم بعض دیگرعورتوں کے ساتھ بھاگنے میں کامیاب ہوگئیں، اورجب مزار شیخ شرف الدین کے پاس پہنچ گئیں جہاں سے ہم البشمرکہ فورس کے ساتھ مل گئے، پھر انہوں نے ہمیں سنبھال لیا،انہوں نےہمیں ہرچیزفراہم کیا۔