دمشق،درعا اور قنیطرہ میں شامی فوج کی پیشقدمی

شامی فوج نے دمشق،درعا اور قنیطرہ کے مضافاتی علاقوں میں پیشقدمی جاری رکھتے ہوئے، تکفیری گروہ جبھۃ النصرہ کو بھاری شکست دی ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی فوج نے جبھۃ النصرۃ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو بھاری شکست دینے کے ساتھ ہی، تل الصیاد نامی علاقے میں اپنے ٹھکانے مستحکم کرلئے ہیں۔ شامی فوج نے یہ کامیابی اتوار کو تل قرین، تلول فاطمہ، اور اسی طرح الھباریہ ، خربہ سلطانہ، حمریت اور السبسبا نامی علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنےکے بعد حاصل کی ہے۔ شامی فوج کی اس کاروائی نے دمشق، درعا اور قنیطرہ کے اسٹریٹجیک مضافاتی علاقوں میں جبھۃ النصرہ پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے اور اب اس گروہ میں افراتفری اور شیرازہ بکھرنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ جبھۃ النصرۃ نے دمشق، درعا اورقنیطرہ کے مثلث میں گھر جانے کے بعد، اسرائیل سے ہتھیاروں اور فوجی امداد کی درخواست کی ہے۔ تکفیری دہشت گرد گروہوں نے اپنی ویب سائٹس پر گذشتہ دو تین دنوں میں حاصل ہونے والی اپنی ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ بڑی تعداد میں ان کے افراد مارے گئے ہیں۔








