بینظیر بھٹو کے قتل میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طلبہ ملوث تھے، سرکاری گواہان
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں مزید 2 گواہ ایف آئی اے پشاور کے انسپکٹر نصیر علی خان اور سب انسپکٹر محمد عدنان کے بیان ریکارڈ کرلیے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ایف آئی اے کے انسپکٹر نصیر احمد نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کے قتل کیس میں گرفتار اور ملوث تمام ملزمان مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طلبہ تھے تمام ایک ساتھ پڑھتے رہے، ان میں خودکش بمبار عبداللہ عرف صدام، نادر عرف قاری اسماعیل، رشید احمد عرف ترابی، فیض محمد کسکٹ شامل ہیں۔ نصیر احمد نے بتایا کہ ان چاروں کا انہوں نے مدرسہ جاکر ریکارڈ چیک کیا اور اس ریکارڈ کی نقل بھی عدالت میں پیش کر دی، ان چاروں ملزمان کی مدرسہ میں رجسٹریشن نمبر 21716،17816،18642 اور 23629 تھی۔ تمام ملزمان ڈی آئی جی سعود عزیز، ایس پی خرم شہزاد، اعتزاز شاہ، شیر زمان، رفاقت، حسنین اور عبدالرشید بھی عدالت موجود تھے۔ ان گواہوں پر جرح بھی مکمل کرنے کے بعد عدالت نے سماعت ایک روز کے لئے ملتوی کرتے ہوئے مزید 5 گواہوں کوطلب کرلیا ہے۔