مفتی رفیع عثمانی اپنی بغل بچہ دہشتگرد تنظیم طالبان کو بچانے میدان میں آگئے

18 دسمبر, 2014 00:00

شیعت نیوز: طالبان کے حامی اور جامعہ العلوم گورنگی کے مہتتم مولانا مفتی رفیع عثمانی نے سانحہ پشاور میں طالبان کے ملوث ہونے سے انکار کردیا، مولوی کہتے ہیں طالبان نہیں دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے، جیو نیوز ہر جاری انکے بیان کے مطابق اسکول پر حملہ کرنیوالے طالبان نہیں دہشتگرد ہیں۔

واضع رہے کہ مفتی رفعیع عثمانی نامی یہ مفتی پاکستان میں دہشتگردوں کو سب سے بڑا حامی ہے، جبکہ اسکا مدرسہ جو مدرسہ کم کسی دہشتگرد گروہ کا ٹرینگ سینٹر زیادہ لگاتا ہے پاکستان بھر کے دہشتگردوں کے لئے جائے پناہ بھی ہے، حال ہی میں طالبان کے نئے امیر جسکا تعلق بلتستان سے تھا کا تعلق بھی انہیں مفتی رفعیع عثمانی صاحب سے مدرسہ سے تھا۔

پاکستان جو اتنا بڑے سانحہ سے دورچار ہے جسکی ذمہ داری خود طالبان قبول کرچکی ہے اور اسے آپریشن ضرب عضب کا ردعمل ظاہر کررہی ہے ایسے میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یہ دیوبندی مفتی رفیع عثمانی اینڈ کمپنی طالبان کو اس گھناونے جرم سے پاک کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں

مزید خبریں پڑھیں

پاکستان میں سلفی وہابی دیوبندی مدارس کے ذریعہ داعش کا جال پھیل رہا ہے

دیوبندی مفتی رفیع عثمانی نے ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل کا فتوی دیا تھا۔ میڈیا رپورٹس

2:45 شام جولائی 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔