مغربی لڑکیوں کو ساتھ ملانے کےلئے داعش کی جانب سے اپنائے جانے والے انوکھے حربے
عسکریت پسند گروپ دولت اسلامیہ (داعش)کی طرف سے انٹرنیٹ پر مغربی ممالک کی لڑکیوں کو جنگجوؤں سے شادی (جہادالنکاح) اور پر سکون زندگی کی پیشکش بہت کامیاب ثابت ہو رہی ہے اور اب تک سینکڑوں لڑکیاں شام پہنچ چکی ہیں۔مغربی میڈیا میں حال ہی میں یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ داعش کی طرف سے مغربی ممالک کی لڑکیوں کو شام میں جنگجوؤں کی دلہنیں بن کر ایک شاندار زندگی گزارنے کی پیشکش کی جارہی ہے ۔اس مقصد کے لئے انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا ویب سائٹوں اور بلاگ کو بھر پور طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔سیکورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ،برطانیہ اور یورپی لڑکیوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی بے مقصد اور غیر اخلاقی زندگی کو چھوڑ کر ایک مہم جو،پُرمسرت اور دنیا اور آخرت کے فوائد سے پھرپور زندگی کا مو قع پا سکتی ہیں ۔اس ضمن میں مبینہ طور پر جنگجوؤں کی نمائندہ اقصیٰ محمود کے بلاگ کو خصوصی شہرت حاصل ہو چکی ہے ۔
مغربی میڈیا کے مطابق 20سالہ اقصیٰ اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئیں لیکن اب شامی جنگجوؤں کے لئے کام کر رہی ہیں اور مغربی ممالک کی لڑکیوں کو شام پہنچنے کے لئے ترغیب اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے شام میں جنگجوؤں کیساتھ زندگی گزارنے کے متعدد فوائد بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک خوشیوں بھری زندگی ہے جس میں نا گھر کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور نا ہی بجلی کے بلوں کی فکر کرنا پڑتی ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ چاول ،گوشت ، پاستااور انڈوں جیسی غذائیں مفت دستیاب ہیں ،صحت کی سہولیات بھی مفت دستیاب ہیں اورنئی شادی شدہ لڑکیوں کو 70ہزار روپے بطور تحفہ دیئے جاتے ہیں اور کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کرنا پڑتا۔بظاہر ایسا لگتاہے کہ یہ مہم خاصی کامیاب ثابت ہو رہی ہے کیونکہ متعدد مغربی ممالک کے سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ان ممالک سے سینکڑو ں لڑکیا ں شام پہنچ چکی ہیں۔