شہیدہ بتول فاطمہ کو وادی حسین قبروستان میں سپرد خاک کردیا گیا، مقدمہ تاحل درج نہ ہوسکا

شیعت نیوز: تفصیلات کے مطابق گلبرگ کے علاقے عائشہ منزل پر واقع اسلامک ریسرچ سینٹر سے متصل امام بارگاہ کے باہر منگل کی شب ہونے والے دستی بم حملے میں جاں بحق ہونے والی شیر خوار 9ماہ کی بچی بتول دختر احسن کی نماز جنازہ بدھ کو بعد نماز ظہرین امام بارگاہ خیر العمل میں ادا کی گئی جس میں مقتولہ کے اہل خانہ عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔نماز جنازہ کے دوران انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ بعد نماز جنازہ میت کو سپر ہائی وے پر واقع وادی حسین قبرستان میں آہوں و سسکیوں کے ساتھ سپر د خاک کردیا گیا۔نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر علاقے اور راستے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے ، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی ،سہراب گوٹھ فلائی اوور کو بھی کچھ دیر کے لیے عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ مقتولہ فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر 6کی رہائشی تھی اور والدین کے ہمراہ مجلس میں شرکت کے لیے آئی تھی کہ دستی بم اس کے قریب گر کر پھٹ گیا جس کی وجہ سے اس کے چہرے پر شدید زخم آئے، اسے تشویش ناک حالت میں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آغا خان اسپتال میں زیر علاج 2خواتین کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ آخری اطلاعات تک پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔








