ایران کا دو ٹوک موقف، سیز فائر توسیع مشروط، پاکستانی سفارت کاری کو بڑا چیلنج

22 اپریل, 2026 11:19

شیعیت نیوز: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے 8 اپریل کے سیز فائر میں توسیع کی درخواست پر ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انتہائی واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔

بقائی نے تین اہم نکات پر زور دیا۔ پہلا یہ کہ ایران اس جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں، بلکہ یہ ایک "مسلط کردہ جنگ” ہے اور تہران کسی جارحیت کا ذمہ دار نہیں۔ دوسرا یہ کہ ایرانی مسلح افواج ہمہ وقت الرٹ ہیں اور ملکی سالمیت کے دفاع کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کریں گی۔ تیسرا اور سب سے اہم نکتہ مذاکرات سے متعلق ہے، ایران کا کہنا ہے کہ سفارت کاری قومی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور تہران صرف اسی وقت مذاکرات کی میز پر آئے گا جب دشمن کے شرپسندانہ اہداف کو ناکام بنانے کے لیے منطقی بنیادیں فراہم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو تین محاذوں پر بری طرح ہلا دیا

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر سیز فائر توسیع کی منظوری نہیں دی، بلکہ اسے امریکی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ یہ صورتِ حال پاکستان کی سفارتی کوششوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ جب تک صدر ٹرمپ کی عائد کردہ ناکہ بندی برقرار رہے گی، تہران مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں۔

12:56 شام اپریل 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔