لبنان، تکفیری دھشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن

لبنان کی فوج نے اس ملک کے شمالی علاقوں میں تکفیری دھشتگردوں سے نمٹنے کیلئے فوجی کاروائی تیز کر دی ہے۔اسی سلسلے میں لبنان کی فوج نے کل شمالی لبنان کے ایک علاقے میں ایک ایسے گھر پر کاروائی کی جو دھشتگردوں کی پناہ گاہ اور ہتھیاروں کے ڈھیر میں بدل چکا تھا اس کاروائی میں3 تکفیری دھشتگرد ہلاک اور متعدد گوفتار ہوئے۔ لبنان کے ذرائع ابلاغ نے کل ایک رپورٹ میں کہا کہ لبنان کی فوج نے 2 لبنانی فوجیوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کا سر قلم کرنے والے تکفیری دھشتگرد احمد سلیم المیقاتی کو جو ابوالھدی کے نام سے مشہور تھا گرفتار کر لیا ہے۔ تکفیری دھشتگرد گروہ داعش اور النصرہ نے اگست کے مہینے میں شام اور لبنان کے سرحدی علاقے عرسال سے 30 لبنانی فوجیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد ان میں سے 3 کو قتل کر دیا۔ لبنانی فوج کے کمانڈر جان قھوچی نےتکفیری دھشتگرد گروہوں کے خلاف ہونے والی کاروائیوں میں لبنانی فوج کی کامیابیوں کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کاروائیوں میں دھشتگردوں کے بہت بڑے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے اور دھشتگردوں سےبڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے ۔ لبنانی فوج کے کمانڈر نے اس بیان میں کہا ہے کہ شام کے ساتھ اس ملک کی پہاڑی سرحدی علاقوں میں تکفیری دھشتگردوں کا محاصرہ کر لیا گیا ہے اور ان کے رسد کے راستے کاٹ دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لبنانی فوج اپنے اغوا ہونے والے فوجیوں کی بازیابی کیلئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ درایں اثناءلبنانی فوج کے کمانڈر جان قھوچی سے ہونے والی ملاقات میں لبنان کی انقلابی تحریک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ بھی لبنان کی فوج کے ساتھ سرحدوں کی پاسداری کر رہی ہے اورلبنان کے جنوب اور شمال،مشرقی سرحدوں کے دفاع کیلئے لبنانی فوج کے ساتھ ہے۔ حزب اللہ اور تحریک امل نے لبنانی فوج کے ساتھ ایسے میں اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے کہ اس ملک کی سرحدوں کوصیہونی دشمنوں کی بڑے پیمانے پر جارحیت کا سامنا ہے ۔ یہ ایسے میں ہے کہ چند روز قبل حزب اللہ کے رہنما شیخ نبیل قاووق نے کہا تھا لبنان کی فوج، حزب اللہ اور عوام تکفیری دھشتگردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے اور اسرائیلی اور تکفیری دھشتگردی کو شکست دیں گے۔
لبنان کی صورتحال سے دکھائی دیتا ہے کہ لبنان کی فوج، حزب اللہ اور عوام ہی بہتر انداز میں دشمنوں کے مقابلے میں اپنے ملک کا دفاع کر سکتے ہیں۔ اور اس صورت میں صیہونی حکومت کی سازشوں سے بچا جا سکتا ہے۔








