القائدہ نے پاکستانی دیوبندی مدرسہ کے طالب علم دہشتگرد عاصم عمر کو جنوبی ایشیا کا امیر بنادیا

13 ستمبر, 2014 13:08

taliban98القاعدہ کے سربرہ ایمن الظواہری نے حال ہی میں جاری ہونے والے ایک پیغام میں پاکستانی دیوبندی دہشتگرد مولانا عاصم عمر کو القاعدہ کے نئے قائم کردہ جنوبی ایشیائی ونگ کا سربراہ مقرر کیا ہے لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ مولانا عمر کون ہے؟ حالیہ ایک ویڈیو پیغام میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے افغانستان سے لے کر میانمار تک اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں القاعدہ کی ایک نئی شاخ بھی قائم کی گئی ہے جس کا سربراہ پاکستانی مدرسوں میں پڑھنے والا اور ایک حد تک غیر معروف دہشتگرد عاصم عمر کو بنایا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے منظر عام پر آنے والے اس ویڈیو پیغام میں الظواہری کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے جنوبی ایشیائی ونگ کا ”امیر“ عاصم عمر ہوگا۔
نیوز ایجنسی رائٹرز نے متعدد انٹرویوز اور انٹیلی جنس حوالوں سے بتایا ہے کہ دیوبندی عاصم کی عمر لگ بھگ چالیس سے پچاس کے درمیان ہے جب کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے جہادی حلقوں میں دہشتگرد عاصم عمر کی شہرت ایک جنگجو کی بجائے ’دانشور اور مقرر‘ کے حوالے سے ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز نے پاکستانی قبائلی علاقے میں موجود ایک مجاہد جو عاصم عمر کو ذاتی طور پر جانتا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ”اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد نئے سربراہ الظواہری نے القاعدہ کی تنظیم نو کا آغاز کردیا تھا اور اس میں جنوبی ایشیا پر توجہ مرکوز کی گئی تھی“ اس کا مزید کہنا تھاکہ القاعدہ نے اسی وقت افغانستان میں جنگجوﺅں کی بھرتی اور ٹریننگ کا آغاز کردیا تھا اور اب مولانا عاصم عمر کو جنوبی اشیا کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے پاکستانی مدرسوں، عراق اور افغانستان میں مضبوط روابط ہیں۔
خفیہ ذریعے کے مطابق دیوبندی مدرسہ کا طالب علم عاصم عمر اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد کے ’سیف ہاﺅس‘ میں لانے کی منصوبہ بندی میں بھی شریک تھا۔عاصم عمر کو جاننے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عاصم کا وہابی اسلامی عقائد سے گہرا تعلق ہے اور وہابی جہاد کے حوالے سے وہ چار کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب امریکہ کی نجی سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹر سے متعلق بھی ہے۔اطلاعات کے مطابق عاصم عمر کی نظریں کئی برسوں سے بر صغیر پر ہیں جبکہ ان کے متعدد ویڈیو پیغامات میں کشمیری مسلمانوں کو ’کافروں‘ کے خلاف میدان جنگ میں شامل ہونے کا پیغام دیا جاچکا ہے۔
ذرائع کے مطابق عاصمر عمر کئی دیگر زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ عاصم عمر نے اپنی کتابوں کا ترجمہ پشتو، ازبک اور عربی میں بھی کیا۔ مولانا عاصم عمر کو ’ایک مصنف، بہترین تقریروں اور پروپیگنڈا‘ کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ لڑائی میں بھی کبھی شریک رہے ہیں یا نہیں اور نہ ہی ٹھکانے کا علم ہوسکا۔
بی بی سی کے مطابق عاصم عمر کے میانمار اور بھارتی گروپوں سے اچھے روابط ہیں۔

M

2:11 صبح جولائی 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔