نواز شریف سوچ لیں, ہفتے کو امپائر کی انگلی اٹھ جائے گی اور فیصلہ ہوجائے گاا، عمران خان

شیعت نیوز (اسلام آباد) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہفتے کو امپائر کی انگلی اٹھ جائے گی اور فیصلہ ہوجائے گا اس لیے اب نواز شریف بھی فیصلہ کرلیں کہ انہیں کس طرح سے جانا ہے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا چل گیا ہےکہ امریکا نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہے، امریکی سفیر سے پوچھتا ہوں کہ امریکا میں ایسے الیکشن کو مان لیں گے جہاں 60 سے 70 ہزار ووٹ جعلی ہوں، کیا امریکا دھاندلی شدہ الیکشن قبول کرلے گا، ہم امریکا کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے دئے، پاکستان کے اندرونی مسائل میں مداخلت نہ کی جائے اور امریکا کسی کی حمایت بھی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران امریکا کے غلام ہیں کیونکہ ان کے پیسے امریکی بینکوں میں پڑے ہیں جس کی یہ پوجا کرتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہے جس پر امریکی ہدایت قبول نہیں، امریکا وزیراعظم کو کلین چٹ دینے والا کون ہوتا ہے جبکہ حکومت کا وزیر خود جعلی ووٹوں کا اعتراف کرچکا ہے، ہم کسی سے لڑائی نہیں چاہتے، ہم پرامن لوگ ہیں، سات دن سے سڑکوں پر ہیں لیکن کوئی گملا تک نہیں ٹوٹا۔ ان کاکہنا تھا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جاتا ہے، مذاکرات اس لیے نہیں کیے گئے کہ حکومت نے کنٹینر لگا کر راستے بند کر رکھے تھے اور ہمارے لوگوں کی گرفتاریاں شروع کیں لیکن اب مجرموں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا وقت ختم ہوچکا ہے، ان لوگوں نے ملک سے جتنا ظلم کرنا تھا کرچکے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ایک ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور جو پیسہ چوری کیا گیا اسے باہر سے ملک میں لے کر آئیں گے جس سے ملک میں خوشحالی آئے گی اور مہنگائی کا خاتمہ ہوگا۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ مغرب میں سزا اور جزا کا قانون ہے وہاں مجرموں کو جیل میں ڈالا جاتا ہے لیکن ہمارے یہاں مجرم اسمبلیوں میں ہوتے ہیں، اسمبلی میں سارے مجرم میرے خلاف اکٹھے ہوچکے ہیں، چاہے سب لوگ بھی اکٹھے ہو جائیں ایک گیند پر سب کی وکٹیں اڑاؤں گا، جب تک زندہ ہوں یہیں پر موجود رہوں گا اور نواز شریف کا استعفیٰ لے کر ہی جاؤں گا جبکہ نوازشریف بھی کسی غلط فہمی میں نہ رہیں اب ملک کو ان سے آزاد کرائے بغیر نہیں جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے امریکا نے نواز شریف کی حمایت میں بیان دیا ہے اس کے بعد سے وہ بہت خوش ہیں لیکن وہ سن لیں اگر امریکا ان کےساتھ ہے تو میرے ساتھ اللہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ حکمرانوں سے نمٹ کر کراچی آؤں گا جہاں سب کو اکٹھا کرکے امن لائیں گے، قوم یہ موقع ضائع نہ کرے، اقلیتوں کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ یہ ان کا پاکستان ہے اسے لٹیروں اور بادشاہت سے آزاد کرائیں، وہ وقت ضرور آئے گا جب پاکستانی پاسپورٹ کی عزت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سن لیں اگر اس حکومت کو قرضہ دیا تو تحریک انصاف کی حکومت اسے واپس نہیں کرے گی، مذاکراتی کمیٹی سے متعلق ان کا کہنا تھاکہ خورشید شاہ کے ہوتے ہوئے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اگر پیپلزپارٹی کی طرف سے کسی کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیا جائے تو قمر زمان کائرہ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چیرمین تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس اور شرمندگی ہوئی کہ محمود خان اچکزئی نے اپنے بھائی کی گورنر شپ پر اپنا ضمیر بیچ دیا، آج اسمبلیوں میں بڑے بڑے لوگ بک چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے ڈیزل کے پرمٹ پر اپنا ضمیر بیچا، نوازشریف ضمیروں کے سودا گر ہیں لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پرمٹ لینے والوں کو نئے پاکستان میں صرف جیل ملے گی۔








