نواز شریف حکومت کا خاتمہ عالمی استعماری قوتوں کی مداخلت کا خاتمہ ہے، علامہ ناصر عباس جعفری

شیعت نیوز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ نواز شریف حکومت کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، سیاسی دہشتگردوں کیخلاف بھی آپریشن ضرب عضب کی ضرورت ہے، ملک میں اب شیعہ، سنی کا مسئلہ نہیں رہا، اہلسنت بھائیوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، اسی وجہ سے آج ریاستی جبر سے متاثرہ اہل سنت کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر ہم ایک مہینہ کیلئے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آجائیں تو اسلام آباد اور پنجاب کے رئیسانی کو بھی گھر بھیج سکتے ہیں، نواز شریف حکومت کا خاتمہ عالمی استعماری قوتوں کی مداخلت کا خاتمہ ہے، نواز حکومت سعودی عرب کی اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوہاٹ کے علاقہ استرزئی پایان میں مجلس وحدت مسلمین کوہاٹ ڈویژن کے زیراہتمام شہید قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی (رہ) کی 26ویں برسی اور شہدائے تفتان کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ عوامی اجتماع بعنوان ’’یوم عزم وفائے حسین ع‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جلسہ سے مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید سبطین حسین الحسینی، امامیہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر علامہ خورشید انور جوادی، سابق سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا علامہ سبیل حسن مظاہری، علامہ سید قیصر عباس الحسینی اور علامہ سید اعوان علی شاہ نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے دشمن کو پہچاننا ہوگا، ہمارا دشمن امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک اور پاکستان میں موجود ان کے آلہ کار ہیں، وطن عزیز میں ہمارے خلاف دشمنی کا آغاز جنرل ضیاءالحق دور میں ہوا، اور ہمارے خلاف ایک اتحاد قائم کیا گیا، جس نے ہمیں پاکستان میں ڈرانے، تنہاء اور کمزور کرنے کی کوشش کی، کیونکہ دشمن جانتا تھا کہ کربلا کے ماننے والوں میں بڑی طاقت ہے، جب تک انہیں شکست نہیں دی جاسکتی، اس کے مزموم عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نامساعد حالات میں شہید عارف حسین الحسینی نے ملت کی سربلندی کا پرچم اٹھایا اور ابوجہل و ابو لہب کی اولادوں کو للکارا، شہید عارف الحسینی ایک باد نسیم کی طرح آیا تھا، دنیا کہتی تھی کہ امام خمینی کے بعد دوسرا بڑا لیڈر ہمارا قائد شہید عارف الحسینی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جتنا عظیم تھا اتنا ہی مظلوم تھا، ہم شہید کے دشمنوں کا تعاقب کرتے رہیں گے اور وقت کے فرعونوں کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے تکفیریوں کے اتحاد نے ہم سے شہید عارف الحسینی کو چھین لیا، جنہوں نے شہید عارف الحسینی کو شہید کیا آج وہی ہاتھ تفتان بارڈر پر شہید ہونے والے زائرین کے قاتل ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کے پاس آج پورا نظام موجود ہے، وہ ہماری ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے، بغیر منظم ہوئے ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مجلس وحدت مسلمین ملت کو منظم کرنے کیلئے بنائی گئی، ہم نے 5 دن مسلسل دھرنا دیکر بلوچستان کی رئیسانی حکومت کو گرایا، یہ کام ہم مسلح جدوجہد سے نہیں کرسکتے، ہم نے اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک مہینہ کیلئے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آجائیں تو اسلام آباد اور پنجاب کے رئیسانی کو بھی گھر بھیج سکتے ہیں، اور اس ظالم نظام کو اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے، یہ ظالم حکمران ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتے، ہم نے آخری مرتبہ 2200 مقامات پر دھرنے دیکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، ہم ملت کا اتحاد چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں اہلسنت کو اپنا دوست بنایا، سنی اتحاد کونسل، پاکستان عوامی تحریک اور ہمارے درمیان آج ہم آہنگی ہے، انہی اہلسنت بھائیوں نے سانحہ راولپنڈی کے موقع پر میڈیا پر آکر کہا کہ عزاداری سیدالشہداء ضرور ہونی چاہئے، جو اسے روکنا چاہتے ہیں وہ سنی نہیں تکفیری ہیں، سنی ہم ہیں۔ اس لئے ہم نے کہا کہ آپ نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، ہم سرکار وفا کے ماننے والے ہیں، اگر آپ پر کوئی مشکل پڑی تو آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ آج اہل سنت پر مشکل وقت آیا، ان کے کئی لوگوں کو شہید کر دیا گیا، خواتین کے چہروں پر گولیاں برسائی گئیں، ہم اس وجہ سے ان مظلوموں کیساتھ کھڑے ہیں، اور ان کا ساتھ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں رہا، آج ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ مسئلہ تکفیریت کا ہے، ہم نے ریاست اور دہشتگردوں کے مابین معاہدہ ختم کرایا اور آج دہشتگردوں کیخلاف آپریشن جاری ہے، ہم سیاسی دہشتگردوں کیخلاف بھی آپریشن ضرب عضب چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف حکومت سعودی عرب کی اسٹریٹجک پارٹنر ہے، پاکستان میں نواز حکومت گرانے کا مطلب عالمی استعماری قوتوں کے مفادات کا خاتمہ کرنے کے مترادف ہے، پارا چنار کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارا چنار کے عوام کو اپنے مسائل فوری طور پر ازخود مل بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں، پارا چنار کے عوام کے باہمی اختلافات پورے ملک کی ملت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، پارا چنار کے عوام ظالموں سے فیصلے کروانے کی بجائے اپنے مسائل خود حل کریں۔








