آل سعود جنت البقیع کو مسمار نہ کرتے تو آج بیت المقدس آزاد ہوتا، علامہ مرتضٰی زیدی

07 اگست, 2014 11:00

murtaza zaidiامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن اور مرکزی تنظیم عزاء کراچی کے زیراہتمام 8 شوال بمناسبت یوم انہدام جنت البقیع مرکزی مجلس عزاء و جلوس کا اہتمام بریٹو روڈ سولجر بازار پر کیا گیا، مجلس سے مولانا علی مرتضٰی زیدی نے خطاب کیا۔ مجلس و جلوس عزا میں عاشقان اہلبیت و اصحاب رسول علیہم السلام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا علی مرتضٰی زیدی نے کہا کہ جنت البقیع کے انہدام سے مسلمانوں کے دل غمگین ہوئے ہیں، بقیع میں اُن شخصیات کی قبور ہیں جنہوں نے اپنی زندگی رسولؐ کے ساتھ گذاری اور اسلام کے لئے اپنی زندگی کو وقف کیا، اسی لئے دنیا بھر کے مسلمان عمرہ و حج کے بعد جنت البقیع جاکر ان محبان مصطفٰی، اولیاء اللہ اور خاندان مصطفٰیؐ سے تجدید عہد کے لئے آتے ہیں اور یہ مسلمانوں کا تاریخی ورثہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینا کی قومیں اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتی ہیں، مگر آل سعود نے اپنے ورثے کو ہی مسمار کر دیا، دوسری طرف آل سعود نے اپنے عقیدے کو دنیا بھر کے مسلمانوں پر نافذ کرتے ہوئے جنت البقیع کو مسمار کرکے قبور کی زیارات پر پابندی لگا دی، جو سراسر زیادتی ہے جبکہ شریعت اور دیگر مسائل کے رو سے بھی یہ کام ناجائز ہے اور سیرت محمدؐ میں بھی ہمیں کہیں ایسا عمل نظر نہیں آتا۔

علامہ علی مرتضٰی زیدی نے کہا کہ جنت البقیع کے انہدام کے وقت عالم اسلام کو چاہیے تھا کہ وہ سراپا احتجاج بن جاتے، تاکہ آل سعود دباؤ کے تحت اس حرکت سے باز رہتے، مگر عالم اسلام کی خاموشی بھی اس ظالم کے جرم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود جنت البقیع کو مسمار کرنے والے بیت المقدس پر صہیونی اسرائیل کے قبضہ پر کیوں خاموش رہتے ہیں، یہاں انہیں دین اور شریعت کا لحاظ نہیں ہوتا، اگر آل سعود جنت البقیع کو مسمار نہ کرتے تو آج بیت المقدس بھی آزاد ہوتا۔ مجلس کے اختتام پر جلوس برآمد ہوا، جس میں شہر کی مختلف انجمنوں نے نوحہ خوانی کی۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ علی رضاؑ پر اختتام پذیر ہوگیا۔

8:33 شام جون 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔