عاشور اور ۹ محرم کو گھروں میں بیٹھنا حرام ہے، عزاداری کے اجتماعات مین بھرپور شرکت کی جائے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شیعہ اور عاشق رسول (ص) و اہلبیت علیہم السلام پر یہ واجب ہے کہ وہ ہر حال میں عزاداری سید الشہداءامام حسین علیہ السلام میں شرکت کرے اور عاشورہ اور ۹محرم کو گھروں میں بیٹھنا حرام ہے ۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور میں گذشتہ شب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ عبد الخالق اسدی اور دیگر بھی شریک تھے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنر ل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ تمام علمائے کرام متفقہ طور پر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ عاشورہ اور ۹ محرم کے روز ہر عاشق رسول (ص) اور عاشق اہل بیت علیہم السلام پر واجب ہے کہ وہ عزاداری سید الشہداءامام حسین علیہ السلام کے اجتماعات میں شریک ہو اور عاشورہ اور ۹ محرم کو گھروں میں بیٹھا حرام قرار دیتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس سال کا یوم عا شور اس بات کی گواہی دے گا کہ پاکستان کے کروڑوں عزاداران امام حسین علیہ السلام تمام تر دہشت گردی کے خطرات کے باوجود عزاداری کے اجتماعات میں شریک ہوں گے اورامریکی و اسرائیلی گماشتوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ان کاکہنا تھا کہ ہرعزادار پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عزادری امام حسین علیہ السلام کو برپا کرے اور عزاداری کے اجتماعت میں بھرپور شرکت کرے۔آج پورا ملک سندھ،بلوچستان،خیبر پختونخواہ،پاراچنار،پنجاب اور گوشہ و کنار دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی کے سبب کوئی خاطرخوواہ اقدامات سامنے نہیں آ رہے،جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اکابرین دہشت گردوں کے خوف سے ان کے خلاف عملی اقدامات نہیں کروا رہے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل کاکہنا تھا کہ اگر افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں بسنے والے شہریوں اور خصوصاً ایام عزاءمیں عزاداران امام حسین علیہ السلام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو ہم پیش کش کرتے ہیں کہ ملت جعفری پاکستان کے نوجوان ،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رضا کار افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ عزاداری کے اجتماعات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ تکفیری دہشت گردوںکے خلاف عملی اقدامات کئے جائیں اور دہشت گردوں کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں وگرنہ اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہ پائے گا۔
سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کاکہنا تھا کہ ملت جعفریہ ، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملک بھر میں دہشت گردوں اور دہشت گردی کے مراکز کے خلاف عملی آپریشن کا مطالبہ کرتی ہے اور افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروںکو ملک سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے۔اس لئے ہم ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف فوری فوجی آپریشن کیا جائے تا کہ پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کیا جا سکے۔مملکت پاکستان میں جو دہشت گردی کی آگ ضیاءالحق نے لگائی تھی آج پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے ۔ملت جعفریہ پاکستان کی بقاءاور دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے کے لئے حکومت پاکستان کو اپنے عملی تعاون کی پیش کش کرتی ہے۔
رہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان کاکہنا تھا کہ حکومت اور سازشی عناصر عزاداری کو محدود کرنے کے لئے ملک بھر میں دہشت گردی کا خوف پھیلا کر عوام الناس کو ہراساں کر رہے ہیں ،ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ موٹر سائیکل اور موبائل سمز پر پابندی جیسے اقدامات سے آگے بڑھ کر دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات کریں ،اگر وفاقی وزیر داخلہ یہ سمجھتے ہیں کہ موبائل اور موٹر سائیکل پر پابندی لگا کر عزاداری سید الشہداءامام حسین علیہ السلام کو محدود کیا جا سکتا ہے تو ان کی بھول ہے۔دہشت گردانہ حملے تو پیدل بھی ہو رہے ہیں تو کیا لوگ گھروں سے باہر نکلنا بند کر دیں،کیا افواج پاکستان کے ادارے اور جی ایچ کیو کو بند کر دیا جائے،اور کیا پولیس چوکیوں اور سیکورٹی فورسز کو اپنے فرائض سے روک دیا جائے کیونکہ ان پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ہم اس طرح کے عوامل جن کا مقصد عوام کو تنگ کرنا ہو کی سخت مذمت کرتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں کہ جن دہشت گردوں کا حکومت کو علم ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور عملی کاروائی کی جائے۔ انہوںنے مزید کہا کہ عزاداری سید الشہداءامام حسین علیہ السلام ہماری شہ رگِ حیات ہیں۔ ہم اپنی جان و مال، اولاد تک قربان کر دیں گے لیکن عزاداری امام عالی مقام علیہ السلام کو محدود کرنے کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ یزیدیت جب بھی جہاں بھی سر اٹھائے گا یہ تاریخ گواہ ہے وہاں اس کے مد مقابل حسینیتؑ ہی آئے ہیں او اس کے ارادوں کو خاک میں ملایا ہے ۔ ہم اپنے شہدائے عزادارنِ امامِ عالی مقامع کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور یزیدِ وقت کو رسوا کر کے خون شہیداں کا انتقام لیں گے ۔ ہم پنجاب حکومت میں شامل دہشت گردوں کے سرپرست وزیر لا قانون رانا ثناءاللہ کے اس بیان کی پر زور مذمت کرتے ہیں کہ جس میں عزادایر کو چار دیواری تک محدود کرنے کا کہا گیا ۔ اس وقت جب ہم کراچی ، کوئٹہ ، راولپنڈی میں اپنے شہداءکے جنازے اُٹھا رہے تھے۔ عین اسی وقوت پنجاب حکومت کے اس غیر ذمہ دار وزیر کا بیان ہمارے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے شیعہ قوم کے ساتھ ساتھ قلب اطہر رسول کو بھی زخمی کیا ہے ۔ پنجاب حکومت کی اس وقت دہشت گردوں کی حمایت اور ان کے مذموم مقاصد کے حصول میں ترجمان بننا مضحکہ خیز اور حیران کن ہیں۔ دنیا کے طول و عرض میں اس وقت عزاداری سید الشہداءبرپا اور جاری ہیں۔ کیا پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عزادار اور عزاداری کو تحفظ دینے میں حکمران کیوں گریزاں ہیں۔ مجلس وحدت المسلمین پاکستان ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی اور خصوصاً شہداءعزادارانِ امامِ عالی مقام ؑ خراجِ عقیدت اور عزاداری امام مظلوم علیہ السلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف کل بروز جمعہ کو ملک بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے اور 12 محرم الحرام کو ملک بھر میں اہم شاہراہوں پر دھرنا دیں گے اور پھر بھرپور احتجاج کریں گے ۔
اور ہم یہاں یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے شہداءعزادارانِ امام عالی مقام علیہ السلام کا چہلم ہم ربیع الاول کے پہلے ہفتے کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شایانِ شان طریقے سے منائیں گے اور آئندہ کیلئے اپنی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی کی بجائے دہشت گردوں کو گرفتار کریں جو محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی عل الاعلان دہشت گردانہ کاروائیوں اور حملوں کی دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آ رہے تھے ۔عزاداری امام حسین علیہ السلام کو محدود کرنے کا خواب دیکھنے والے دہشت گرد اور ان کے سیاسی آقا اس بات کو جان لیں کہ ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔عزاداری نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اسلام کی بقاءاور حیات کی ضامن ہے۔ملک میں موجود تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کے زمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مزارات ،مساجد،افواج پاکستان پر حملوں،اور بے گناہ نہتے پاکستانی مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کے خلاف اپنے خطبات اور تقاریر میں عوام کے اندر شعور بیدار کریں اور فتوے جاری کریں کہ ان دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسلام کا اصل چہرہ مسخ کر رہے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل کاکہنا تھا کہ ہم صحافی برادری ،اخبارات اور چینلز کے مالکان سے اور صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرکاری ایجنسیوں کے دباﺅ پر دہشت گردوں کی میڈیا کوریج اور پروگرامات دکھانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں ۔ان دہشت گردوں کے ہاتھ پاکستان کے ہزاروں بے گناہ افراد کے خون میں غلطاں ہیں اور ان کو حکومت کی جانب سے بھی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود میڈیا کی جانب سے ان دہشت گردوں کو میڈیا میں جگہ دینا آئین پاکستان اور انسانیت کے منافی ہے۔
ہم پیمرا سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے ٹی وی پروگرامات اور زرائع ابلاغ میں ہونے والی کوریج کا نوٹس لے جو خود ملک میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
ہم پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان،عوامی نیشنل پارٹی،پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی پاکستان،جمعیت علمائے اسلام پاکستان،جمعیت علمائے پاکستان،سنی تحریک پاکستان اور پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ملت جعفریہ کی نسل کشی کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں اور ملت جعفریہ کی نسل کشی رکوانے میں عملی کردار ادا کریں۔
ملک کے حساس علاقوں کی سیکورٹی کے انتظامات کو فوری طور پر بروئے کار لایا جائے اور ہم سمجھتے ہیں کہ فرقہ واریت امریکی و صیہونی لابی کی سازش کا حصہ ہے جبکہ کانگریسی ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی عالمی سازشیں بنائی جا رہی ہیں،جو کل تک پاکستا ن کی مخالفت کرتے تھے آج وہی عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی گھناﺅنی سازشوں میں ملوث ہیں۔








