پاکستان

حضرت زینب کبری (س) اور رہبر کبیر خمینی بت شکن کی یاد میں سیمینار

allama taqi shahسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ جس کردار کو زہراء بتول سلام اللہ علیہا نے انجام دیا، اسی کردار کو ثانی زہراء زینب کبری (س) نے انجام دیا اور اپنے بابا کے شانہ بشانہ دین کو طاغوت سے بچانے کا کام انجام دیا۔ علامہ تقی شاہ نقوی کا کہنا تھا کہ امام خمینی رہ نے کار انبیا ع انجام دیتے ہوئے پوری قوم کو طاغوت کے چنگل سے آزادی دلوائی۔ اس کٹھن راستے میں خمینی بت شکن نے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔
المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی اور الکوثر تھاٹس کے زیراہتمام جامعہ الکوثر اسلام آباد میں سیمینار بعنوان "حضرت زینب کبری (س) اور رہبر کبیر خمینی بت شکن کی یاد میں” منعقد کیا گیا۔ المصطفٰی قرانک اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ایک گروہ نے ہمخوانی سے تلاوت کلام پاک سے سیمینار کا آغاز کیا۔ نظامت کے فرائض برادر سید سفیر سجاد نے انجام دیئے۔ سیمینار میں جامعہ الکوثر کے طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت اور خمینی بت شکن رہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ برادر نعیم عباس نے بخضور جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا سلام پیش کیا۔

توحید کی ہر بات بناتی رہیں زینب
ظلمت میں شمع دیں جلاتی رہیں زینب

کئی ٹکڑے تیری لاش کے ہمشیر نے دیکھے
پھر اپنے تخیل سے ملاتی رہیں زینب

اللہ کی توحید پیعمبر کی رسالت
قرآن و امامت کو بچاتی رہیں زینب

قرآن سے جو اہل سقیفہ نے لگائی
خطبوں سے وہی آگ بجاتی رہیں زینب

ناصر جو نبی پاک ص پہ ہذیان لگایا
ہر چوک پہ وہ داغ مٹاتی رہیں زینب

توحید کی ہر بات بناتی رہیں زینب
ظلمت میں شمع دیں کی جلاتی رہیں زینب

مقررین کا کہنا تھا کہ جس کردار کو زہراء بتول سلام اللہ علیہا نے انجام دیا، اسی کردار کو ثانی زہراء زینب کبری ع نے انجام دیا اور اپنے بابا کے شانہ بشانہ دین کو طاغوت سے بچانے کا کام انجام دیا۔ برادر ظافر نے امام راحل رہ کو شاندار الفاظ میں سلام پیش کیا، جس کے چند اشعار کچھ یوں تھے۔

خمینی زندہ ہے خمینی زندہ ہے صدا تابندہ ہے صدا پائندہ ہے
خمینی عزم ہے خمینی حوصلہ خمینی جوش ہے خمینی ولولہ

رکھے جو ٹھوکروں پر تخت و تاج کو
مٹا دے ظلم و ستم کے راج کو
مسلمانوں کی جو بچائے لاج کو
حسینی فوج کا وہ اک کارندہ ہے
خمینی زندہ ہے خمینی زندہ ہے

وہ جس نے دی ہمیں یہ کہنے کی مجال
سپر پاور ہے بس خدائے ذوالجلال
ہے جس کے سامنے ہر اک طاقت نڈھال
درس آگہی ہم کو دیتا ہے
صدا تابندہ ہے صدا پائندہ ہے
خمینی زندہ ہے خمینی زندہ ہے

تین جون کے دردناک مناظر جب امام راحل رہ اپنے چاہنے والوں کو الوداع کہہ کر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ان مناظر پر مشتمل وڈیو ملٹی میڈیا پر شرکائے سیمینار کو دکھائی گئی، جس نے ہر اس دل کو غمناک کر دیا۔ جس میں خمینی بت شکن کی محبت تھی۔ شہید باقر الصدر نے فرمایا تھا کہ "ذات مقدس امام خمینی رہ میں اس طرح ڈوب جائو جیسے امام خمینی رہ اسلام میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اسی طرح آقائے خامنہ نے امام راحل رہ کے بارے میں فرمایا کہ "امام خمینی رہ سے محبت تمام خوبیوں سے محبت ہے۔”

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ تقی شاہ نقوی کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو نجات دلانا آسان ہے لیکن پوری قوم کو طاغوت کے چنگل سے آزادی دلانا کٹھن کام ہے۔ اللہ تعالٰی نے انبیاء ع کو بھی اسی کام کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔ اس سلسلے میں انبیا کرام ع نے بے شمار تکالیف برداشت کیں۔ علامہ تقی شاہ کا کہنا تھا کہ اسلام اور سیاست الگ الگ نہیں ہیں۔ اسلام ایک مکمل نظام حکومت دیتا ہے اور اسلامی سیاست حضور اکرم ص اور معصومین ع کا کردار تھا۔ قوموں کی نجات اور طاغوت کے چنگل سے آزادی دلانا ہی سیاست ہے۔

ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ پولیٹیکل سائنس کو اتنا بے وقعت کر دیا گیا ہے کہ لوگ سیاست کے مفہوم سے ناآشنا ہو چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ قبل از انقلاب لوگ حسینیت کا نعرہ تو لگاتے تھے لیکن یزیدیت کو للکارنے والا کوئی نہ تھا۔ امر باالمعروف و نہی عن المنکر کو لوگ بھلا چکے تھے۔ لوگوں کی فکریں اس قدر پست ہو چکی تھیں کہ وہ اسلام کو سیاست سے الگ سمجھنے لگے تھے اور اسلامی نظام حکومت سے ناآشنا تھے۔ خمینی بت شکن نے 20 سال تک ایران بدر رہ کر بھی ملت ایران کی اس طرح تربیت کی کہ وہ قرآن کی آیت کہ جس میں کہا گیا ہے کہ وہ لوہے کے ٹکروں سے سخت ہوگئے کا مصداق بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امام رہ کی زندگی سنگین فیصلوں اور کٹھن مراحل سے عبارت ہے۔

امام خمینی رہ نے دشمن کے ملک میں رہ کر دشمن کو پریشان کر دیا۔ اس دور کے ایک مشہور زمانہ صحافی حسنین ہیکل نے امام سے سوال کیا کہ آپ اس شاہ ایران کے مقابل میدان عمل میں آئے ہیں کہ جس کی پشت پر تمام سپر طاقتیں ہیں تو امام نے جواب دیا کہ میں ہر حال میں کامیاب ہوں گا۔ اگر میں شاہ ایران کو شکست سے دوچار کرتا ہوں تو بھی میں کامیاب ہوں، اگر اس راستے میں شہید ہو جائوں تب بھی کامیاب و کامران ہوں۔

علامہ تقی شاہ نقوی کا کہنا تھا کہ بعد از انقلاب ملت ایران کو کٹھن ترین مراحل سے گزرنا پڑا، ایران پر جنگ مسلط کر دی گئی۔ لیکن امام خمینی رہ پریشان نہ ہوئے اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جنگ جاری ہے کہ اسی اثنا میں مسلم دنیا کے سربراہان پر مشتمل ایک وفد امہ امن کمیٹی کے نام سے امام کے پاس آتا ہے کہ جنگ بندی کی جائے۔ سابق صدر پاکستان جنرل (ر) ضیاءالحق اس کمیٹی کے سربراہ تھے۔ کمیٹی کی گفتگو جاری تھی کہ وقت نماز ہو گیا۔ امام رہ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔ تمام مسلم دنیا کے رہبر امام رہ کے پیچھے تھے۔ نماز کے بعد امام کبیر خمینی بت شکن نے مسلم سربراہان کو درس اخلاق دیا کہ تمہیں چاہیے کہ لوگوں کے جسموں پر حکمرانی کی بجائے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرو۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ تقی شاہ نقوی نے کہا کہ امام خمینی رہ نے کار انبیا ع انجام دیتے ہوئے پوری قوم کو طاغوت کے چنگل سے آزادی دلوائی۔ اس کٹھن راستے میں خمینی بت شکن نے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔ امام بیس سال تک ملک بدر رہے، لیکن ملت ایران کی تربیت کو جاری رکھا اور آخر کار اپنے ہدف کو حاصل کرکے دم لیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button