فلسطینی قیدیوں کامسئلہ، عالمی مسئلہ بنانےپرتاکید

26 اکتوبر, 2010 12:00

Ismail_Haniyehمنتخب فلسطینی حکومت کےوزیرا‏عظم اسماعیل ہنیہ نےاعلان کیاہےکہ فلسطینی قیدیوں کامسئلہ ، ایک عرب ، اسلامی اور بین الاقوامی مسئلےمیں تبدیل ہوناچاہئےتاکہ فلسطینی قیدیوں کی صورت حال کاجائزہ بین الاقوامی ہوجائے۔
اسماعیل ہنیہ نےغزہ میں قیدیوں کی بین الاقوامی کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےکہاکہ اس کانفرنس کےانعقاد کاایک مقصد ، فلسطینی قیدیوں کامسئلہ عالمی بنانا اور انھیں اسرائیلی جیلوں سےآزاد کراناہے۔
فلسطین کےمنتخب وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نےاپنےبیانات کےدوسرےحصےميں صیہونی قیدی گلعاد شیلات کےمسئلےکی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ  غزہ کےدورےکےموقع پرتمام یورپی وفود مزاحمتی گروہوں سےگلعادشالیت کےبارے میں توگفتگوکریں گے، لیکن اس کےمقابلےمیں کوئی،غاصب صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید آٹھ ہزار فلسطینی قیدیوں کےبارےمیں کوئی بات چیت نہیں کرےگا۔
فلسطینی حکومت کےمنتخب وزیراعظم نے دنیاسےیہ سوال بھی کیاکہ آخرکیوں ایک صیہونی فوجی پرپوری دنیاکی توجہ مرکوزہے لیکن آٹھ ہزار صیہونی فوجیوں کےمسئلےکی جانب کوئي توجہ نہيں دی جارہی ہے۔
جبکہ صیہونی حکومت کی جیلوں کی خراب صورت حال پراحتجاج میں فلسطینی قیدی جلد ہی بھوک ہڑتال شروع کرنےوالےہیں۔
اس سلسلےمیں قیدیوں کےامور کےماہرعبدالناصر فروانہ نےاس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ قیدیوں کی ہڑتال اور احتجاج کوبخوبی کوریج نہيں دی جاتی کہاکہ یہ احتجاج اب تک کاسب سےبڑا احتجاج ہوگا۔ اورفیصلہ یہ کیاگیاہےکہ آيئرلینڈ کے ہڑتالیوں کی مانند کھانےپینے سےاجتناب کیاجائےیعنی مکمل بھوک ہڑتال کی جائے۔جبکہ فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال کامقصد دباؤ کوکم کرنا،صیہونی جیلوں میں ہونےوالےتشدد کوروکنااور دنیاتک اپنی مظلومیت کی آواز پہنچانا ہے۔
لیکن ایسےعالم میں کہ غزہ مسلسل صیہونی فوج کےمحاصرےمیں ہے، فلسطین کی منتخب حکومت کےوزیراعظم نےغزہ میں الجزائر اور اردن کےوفود سےملاقات میں کہاکہ فلسطینی عوام ہرگز اپنی ایک بالشت زمین سےبھی چشم پوشی نہيں کریں گے اور صیہونی حکومت کوہرگز قانونی طورپرتسلیم نہيں کریں گے۔
اسماعیل ہنیہ نے شریان حیات پانچ نامی امدادی کارواں کےہمراہ غزہ پہنچنےوالے اردن اور الجزائرکےحکام سےملاقات میں ،استقامت اورفلسطینیوں نیز علاقےکےممالک کےخلاف صیہونیوں کی سا‎‎زشوں کوناکام بنانے پربھی تاکید کی۔

1:43 شام مارچ 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔