جس نے شہادت سے قبل امام حسین(ع) سے اپنا سر قلم ہونے کی خبر سنی

عراق اور شام میں سرگرم دھشتگرد ٹولے داعش نے حزب اللہ کے ۱۷ سالہ مجاہد ’’ذوالفقار حسن عز الدین‘‘ کا سر قلم کر دیا جنہیں دمشق کے شہر الغوطہ الشرقیہ سے گرفتار کیا تھا۔
شہید عزالدین لبنان کے علاقے ’’صور‘‘ کے رہنے والے تھے کہ جو دمشق کے علاقے غوطہ شرقیہ میں ہونے والی ابتدائی کاروائیوں میں زخمی حالت میں تکفیریوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق شہید عز الدین کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ بہوشی کی حالت میں تھے اور ہوش میں آنے کے بعد دھشتگروں نے ان سے مختلف طرح کے سوال کرنا شروع کر دئے اور آخر میں ان کا سر بدن سے جدا کر کے شہید کر دیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ لبنان کے ذرائع ابلاغ نے کچھ عرصہ پہلے یہ خبر دی تھی کہ حزب اللہ کے سپاہیوں نے شہید ذوالفقار حسن عز الدین کے جنازے کو تکفیریوں سے واپس لے لیا ہے لیکن اس شہید کے اہل خانہ نے اس خبر کی تائید نہیں کی کہ وہ جنازہ عزالدین کا نہیں ہے تاہم اس شہید کا جنازہ تکفیریوں نے واپس نہیں کیا۔
اس شہید کے گھر والوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ عز الدین نے خواب میں دیکھا کہ اس کا سر ایک کان سے دوسرے کان تک کاٹ دیا گیا ہے وہ ڈر کر خواب سے اٹھے پھر جب دوبارہ سوئے تو اس بار خواب میں امام حسین علیہ السلام کو دیکھتے ہیں کہ آپ(ع) ان سے فرماتے ہیں کہ عزیزم تمہارے سر کو جدا کریں گے جیسے کربلا میں میرا سر جدا کیا تھا لیکن تم درد کا احساس نہیں کرو گے اس لیے کہ فرشتے تمہیں چاروں طرف سے گھیر لیں گے۔
شہید ذوالفقار حسن کی ماں کا بیٹے کے نام خط
’’ذوالفقار بیٹا! خدا تمہیں سرخرو کرے جیسا کہ تم نے مجھے حضرت زھرا(س) کے سامنے سرخرو کیا ہے۔۔۔ میں قیامت میں فخر کے ساتھ اٹھوں گی اس حال میں کہ تمہارا خوں بھرا سر میرے ہاتھوں میں ہو گا اور تہمارے خون کو آسمان کی طرف پھینکوں گی تاکہ فرشتے تمہارے خون سے اپنے پروں کو رنگین کریں ۔۔۔ مجھے اس قوم سے شکایت ہے جس نے میرے بیٹے کا سر قلم کر کے میرا دل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مجھے اس کی بارات (تشییع جنازہ) میں بھی شریک ہونے سے محروم کر دیا۔۔۔ بیٹا تمہارا خون خدا کے نزدیک میرا ضامن ہو گا اور میرے لیے باعث افتخار ہے۔۔۔
تم یہ مت سوچو کہ میرے بیٹے کا قتل کر کے تم نے میرے حوصلے پست کر دئے۔۔۔
یہ گمان مت کرو کہ میرے بیٹے کا سر قلم کر کے میرے زینبی دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔۔۔
خدا کی قسم میں اپنے بیٹے کی منتظر ہوں میرے بیٹے کی لاش واپس آئے گی جس کے بدن سے اپنی سیدانی زینب (س) کی خشبو سونگھوں گی۔
بیٹا میں تمہاری منتظر رہوں گی تاکہ تمہاری لاش پر پھول برسا کر تمہاری شادی رچا سکوں۔۔۔








